رسائی کے لنکس

شام کے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ کُرد فورسز نے دولت اسلامیہ کی پشت پناہی والے سالوک کے قصبے پر قبضہ حاصل کر لیا ہے، جو علاقہ تل ابیض سے تقریباً 10 کلومیٹر دور واقع ہے

سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ کُرد جنگجوؤں نے شام کی سرحد کے قریب ترک سرحد پر داعش کے ٹھکانوں کی طرف پیش قدمی کی ہے، جہاں دونوں فریق کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔

’سیریئن آبزرویٹری فور ہیومن رائٹس‘ نے ہفتے کے روز بتایا ہے کہ شام کی کُرد لڑاکا فورس (وائی پی جی)، جنھیں باغیوں اور اتحادی طیاروں کی مدد حاصل ہے، شمالی شام میں صوبہٴرقعہ کے داعش کے گڑھ کے اندر پیش قدمی کی ہے، جس کا مقصد تل ابیض کے اہم سرحدی قصبے پر قبضہ کرنا ہے۔


آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ کُرد فورسز نے دولت اسلامیہ کی پشت پناہی والے سالوک کے قصبے پر قبضہ حاصل کر لیا ہے، جو علاقہ تل ابیض سے تقریباً 10 کلومیٹر دور واقع ہے۔

لڑائی کے باعث تل ابیض کے ہزاروں مکین ترکی کی جانب بھاگ نکلنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ ہفتے کو سینکڑوں شامی پناہ گزیں ترک سرحد کے قریب جمع ہوئے، تاکہ تشدد کی کارروائیوں سے بچ سکیں۔

شام میں کُرد افواج داعش کے خلاف اہم کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔

کُرد لڑاکا فورس، جسے امریکی قیادت والے اتحاد کی جانب سے کی جانے والی فضائی کارروائی کی مدد حاصل ہے، اس سال کے اوائل میں ترکی کے قریب کوبانی کے قصبے میں رقبےکا تسلط خالی کرانے کی کوشش تیز تر ہوگئی ہے۔

سرحد کے ساتھ والے داعش کے زیرتسلط اس علاقے کو رفتہ رفتہ واپس لیا جارہا ہے۔

XS
SM
MD
LG