رسائی کے لنکس

پناہ گزینوں سے متعلق اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر کا کہنا ہے کہ شامی حکومت کی جانب سے گزشتہ ایک برس سے مخالفین کے خلاف جاری کاروائیوں کے سبب اب تک کم از کم نو ہزار شامی باشندے لبنان فرار ہوچکے ہیں۔

'یو این ایچ سی آر' کی لبنان میں خاتون ترجمان دانا سلیمان نے 'وائس آف امریکہ' کو بتایا ہے کہ عالمی ادارے اور لبنانی حکومت کی جانب سے اکٹھے کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ سال اپریل سے اب تک سات ہزار سے زائد شامی باشندے لبنان پہنچ چکے ہیں۔

ادارے کے مطابق شامی علاقے حمص میں سرکاری افواج کی پرتشدد کاروائیوں میں حالیہ اضافے کے باعث کم از کم دو ہزار مزید شامی باشندے گزشتہ چند روز کے دوران میں وادی البقاع کے راستے لبنان میں داخل ہوئے ہیں۔

دریں اثنا لندن میں قائم شامی حزبِ اختلاف کی حامی تنظیم 'سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس' کے عہدیداران نے دعویٰ کیا ہے کہ شامی سیکیورٹی افواج نے اس پل کو بمباری کرکے تباہ کردیا ہے جس کے ذریعے حمص سے زخمی افراد کا انخلا کیا جارہا تھا۔

حزبِ مخالف کی ایک اور تنظیم 'سیرین لوکل کوآرڈینیشن کمیٹی' کے مطابق سرکاری افواج نے شمال مغربی صوبے اِدلب کے علاقے مراعاۃالنعمان پر بھی بمباری کی ہے۔

عینی شاہدین نے دارعا کے علاقے میں بھی دھماکے ہونے کی اطلاعات دی ہیں جب کہ علاقے کے مواصلاتی رابطے منقطع کردیے گئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG