رسائی کے لنکس

شام:مسلح افواج بدستور حکمران طبقے کی وفادار


شام:مسلح افواج بدستور حکمران طبقے کی وفادار

شام:مسلح افواج بدستور حکمران طبقے کی وفادار

شام کی حکومت نے بین الاقوامی تنقید کی پرواہ نہ کرتے ہوئے، اپنے خلاف عوامی احتجاج اور مظاہروں کو کچل ڈالا ہے ۔ اس نے سیاسی اختلاف کو کچلنے کے لیے اپنی مسلح افواج پر انحصار کیا ہے ۔ مصر اور تیونس کے برعکس، شام کی فوج نے بر سرِ اقتدار طبقے سے علیحدہ ہونے کے بہت کم اشارے دیے ہیں۔

شام نے بہت سے شہروں اور قصبوں میں سکیورٹی فورسز کو تعینات کر دیا ہے اور انھوں نے کسی پس و پیش کے بغیر سویلین علاقوں میں گولیاں چلائی ہیں۔ صدر بشار الاسد نے کہا ہے کہ فوجیں قومی خدمت کے جذبے کے تحت ان عناصر سے لڑ رہی ہیں جو بقول ان کے چور ڈاکو ہیں۔ واقعات کی یہ ایسی توجیہ ہے جسے خود ان کے اتحادیوں بلکہ عرب ملکوں تک نے مسترد کر دیا ہے ۔

جس درندگی سے یہ کارروائیاں کی جا رہی ہیں، اس کے باوجود، اس بات کا امکان موجود ہے کہ فوج کے کم از کم کچھ سپاہیوں میں ،لوگوں کو کچلنے کی مخالفت موجود ہے ۔ بیشتر عام سپاہی اکثریتی سنّی آبادی سے تعلق رکھتے ہیں جس پر اسد خاندان کی علوی اقلیت ایک عرصے سے حکومت کرتی رہی ہے ۔

سماجی اور اقتصادی لحاظ سے بھی فوج کے سپاہی ملک کے حکمران طبقے کے بجائے، ان لوگوں کے نزدیک تر ہیں جن پر ظلم ڈھائے جا رہے ہیں۔ بعض سپاہی انہیں علاقوں کے رہنے والے ہیں جن پر انہیں حملہ کرنا پڑ رہا ہے ۔ تا ہم ان کے افسروں کی بھاری تعداد علویوں پر مشتمل ہے ۔

انسانی حقوق کے گروپوں کے مطابق، کمانڈروں کو اپنے احکامات کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے، سفاکانہ اقدامات کرنے میں کوئی تامل نہیں ہوتا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جن سپاہیوں نے سویلین آبادی پر گولی چلانے سے انکار کیا ہے، انہیں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔ صرف چند ہی لوگ فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

حاطم منا انسانی حقوق کے عرب کمیشن سے وابستہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں’’شام کی فوج پندرہ لاکھ سپاہیوں پر مشتمل ہے ۔ آپ اِدھر اُدھر 20 یا 50 کیسوں کی بات نہیں کر سکتے۔‘‘

اب تک کوئی ڈویژن تو کیا، کوئی ایک بریگیڈ بھی حکومت کے خلاف نہیں ہوئی ہے ۔اس یکجہتی کی ایک وجہ فوج کا تنظیمی ڈھانچہ ہے ۔ سکیورٹی کے ادارے میں تمام اہم عہدے صدر اسد کے رشتے داروں کے پاس ہیں۔ ان میں ان کے بھائی ماہر اور ان کے بہنوئی آصف شوکت شامل ہیں۔

خاندانی حکمرانی کا یہ وہی انداز ہے جو لیبیا اور یمن میں دیکھنے میں آیا ہے جہاں اسی قسم کے عوامی احتجاج کا جواب طاقت سے دیا گیا ہے۔ شاید اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ داخلی انقلاب کے امکان کو کم کرنے کے لیے، اقتدار کو ایک پیچیدہ نظام کے تحت تقسیم کر دیا گیا ہے ۔ یہ نظام بشار کے والد حافظ الاسد نے ترتیب دیا تھا۔

اس طرح مصر اور تیونس کے مقابلے میں، سکیورٹی فورسز قیادت سے کہیں زیادہ مضبوطی سے وابستہ ہو گئی ہیں۔ مصر اور تیونس میں فوج نے ایک ادارے کی حیثیت سے اپنی انفرادیت قائم رکھی تھی، اورعوامی احتجاج کے لیے اس کی حمایت آزادی کی تحریک کی کامیا بی کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوئی۔ لندن کے Chatham House میں ایک سیاسی تجزیہ کار ندیم شہادہ کہتے ہیں کہ اگر شام میں سیاسی اور فوجی لیڈروں کا زوال آیا، تو امکان یہی ہے کہ یہ دونوں ایک ساتھ ختم ہو جائیں گے۔ ’’میرا خیال ہے کہ پورا ڈھانچہ ایک ساتھ گِر پڑے گا کیوں کہ اندرونی حلقے کے لوگ بہت مضبوطی سے ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔ لیکن انہیں اپنے ساتھ کے کچھ لوگوں کے منحرف ہو جانے یا داخلی انقلاب کا بھی ڈر ہے ۔ لہٰذا ، اگر کسی پر بھی یہ شبہ ہو ا کہ وہ منحرف ہو سکتا ہے، تو وہ پہلے ہی ہلاک ہو چکا ہو گا۔‘‘

لیکن انسانی حقوق کے نگراں منا کا خیال ہے کہ اب بھی وقت ہے کہ فوج آزادانہ طور پر خود کوئی اقدام کرے۔’’اہم ترین بات یہ ہے کہ فوج کا ادارہ مجموعی طور پر کوئی موقف اختیار کرے۔‘‘

منا کا خیال ہے کہ فوج کو کوئی اقدام کرنے میں شاید ملک میں خانہ جنگی کے امکان کی وجہ سے تامل ہو۔ لیکن فوجی کارروائیاں جاری ہیں، اور اس تصادم کو پھیلنے سے روکنے کی امیدیں ختم ہو رہی ہیں۔

XS
SM
MD
LG