رسائی کے لنکس

شام کے صدر بشارالاسد نے اپنی کابینہ کے وزیر زراعت کو ملک کا نیا وزیر اعظم مقرر کردیا ہے۔

بدھ کے روز شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے اپنے ایک نشریے میں کہا کہ مسٹر اسد نے ریاض فرید جحاب کو نئی حکومت بنانے کے لیے کہاہے ، جو ان کے بقول سیاسی اصلاحات کے عمل کا اگلا مرحلہ ہے۔

سات مئی کو شام میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات بھی اسی اصلاحتی عمل کا حصہ تھے۔

لیکن شام کے حکومت مخالف سرگرم کارکنوں کا کہناہے کہ ان علاقوں کے قصبوں اور دیہاتوں میں، جو گذشتہ 15 ماہ سے صدراسد کے اقتدار کے خلاف عوامی تحریک کا مرکز بنے ہوئے ہیں، لوگوں کی بہت کم تعداد ووٹ ڈالنے کے لیے آئی تھی۔

کسی بھی حکومت مخالف پارٹی اور تنظیم نے پارلیمانی انتخابات میں حصہ نہیں لیاتھا جس میں کئی عشروں سے برسراقتدار مسٹر اسد کی بعث پارٹی نے اکثریت حاصل کی۔

حکومت مخالف سرگرم کارکنوں کا کہناہے کہ منگل کے روز شام کے مغربی صوبے لاذکیہ میں حکومت اور باغی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والی لندن میں قائم تنظیم کا کہناہے کہ ان جھڑپوں میں کم ازکم 15 سرکاری فوجی اور تین باغی جنگجو ہلاک ہوئے۔

ادھر جدہ میں سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہاہے کہ شام میں تشدد کے خاتمے کے امکانات مدہم پڑتے جارہے ہیں۔ منگل کے روز پرنس سعود الفیصل نے کہا کہ خلیج کی عرب ریاستوں کی یہ امید ختم ہوتی جارہی ہے کہ بین الاقوامی ثالث کوفی عنان کی کوششوں سے اس تنازع کے حل میں کوئی مدد مل سکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG