رسائی کے لنکس

سعودی عرب شام سے اپنے مبصرواپس بلالےگا


قاہرہ میں عرب لیگ وزرائے خارجہ کا اجلاس

قاہرہ میں عرب لیگ وزرائے خارجہ کا اجلاس

سعودی وزیر خارجہ نے مطالبہ کیا کہ پُر تشدد کارروائیاں رکوانے کے لیے بین الاقوامی برادری شام کے صدر بشار الاسدپر دباؤ بڑھائے۔ اُنھوں نے دیگر مسلم اقوام کے ساتھ ساتھ چین، روس، یورپ اور امریکہ پر بھی زور دیا کہ وہ اِس ضمن میں اپنا کردار ادا کریں

سعودی عرب نے کہا ہے کہ وہ احتجاج کے طور پر شام سے اپنے مبصرین واپس بلا رہا ہے، کیونکہ، اُس کے بقول، حکومت ِ شام 10ماہ سے جاری بغاوت کے خلاف پُر تشدد کارروائیاں بند کرنے کے عرب لیگ کے منصوبے کی حرمت کا خیال کرنے میں ناکام رہی ہے۔

اتوار کے روز قاہرہ میں جاری عرب لیگ کےوزرائے خارجہ کے ایک اجلاس کے دوران، سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے سعودی مبصر واپس بلانے کا اعلان کیا۔

وزرا کا اجلاس اِس بات پرغور کر رہا تھا آیا گذشتہ ماہ شام بھیجے گئے 165مبصرین کی تعداد میں اضافہ کیا جائے، تاکہ شام کی طرف سے امن منصوبے پر عمل درآمد کا مشاہدہ کیا جا سکے۔ مبصرین کی ایک ماہ کی تعیناتی کی مدت جمعرات کو پوری ہوئی۔

اِس سے قبل اتوار کو ہی شام کے بحران سے متعلق معاملات کے بارے میں قائم عرب لیگ کی ایک کمیٹی نےمبصرمشن کی میعادمیں ایک ماہ کی توسیع اور مبصرین کی تعداد میں اضافہ کرنے کی سفارش کی۔

تاہم، شام کے اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سرگرم کارکنوں نے عرب لیگ مشن پر شدید تنقید کی ہے ۔ اُنھوں نے دمشق پرمبصرین کو دھوکے میں رکھنے کا الزام لگایا، اور کہا کہ مشن کو حکومت مخالف مظاہرین اور باغیوں کے خلاف تشدد کی کارروائیوں میں شدت لانےمیں ڈھال کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔

سعودی وزیر خارجہ نے مطالبہ کیا کہ پُر تشدد کارروائیوں کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی برادری شام کے صدر بشار الاسد پر دباؤ میں اضافہ کرے۔ اُنھوں نے دیگر مسلم اقوام کے ساتھ ساتھ چین، روس، یورپ اور امریکہ پر بھی زور دیا کہ وہ اِس ضمن میں اپنا کردار ادا کریں۔

سعودی عرب اُن عرب ملکوں میں سے ایک ہے جو مسٹر اسد کے 11سالہ آمرانہ دورِ حکومت کے خلاف بغاوت کرنے والوں کو کچلنے کی کارروائیوں کے معاملے پرسخت تنقید کرتا آیا ہے۔

معروف شامی اپوزیشن گروپ، ’سیرین نیشنل کونسل‘ عرب لیگ کو قائل کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے کہ وہ مبصر مشن کو ختم کرے اور شام کے بحران کے معاملےپراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے رجوع کیا جائے۔

برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کے سرگرم کارکن رَمی عبد الرحمٰن نے کہا ہے کہ ہفتے کے روز دمشق کےمضافاتی علاقے دعما میں مسٹر اسد کی وفادار فوجیں باغیوں سے لڑتی رہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ یہ لڑائی اُس وقت شروع ہوئی جب سکیورٹی فورسز نےجنازے کے ایک جلوس پر فائر کھول دیا، جِس میں چار افراد ہلاک ہوئے۔ دعما اکثر و بیشتر اسد مخالف احتجاج کا گڑھ رہا ہے۔

حکومتِ شام بغاوت بھڑکانے کا الزام ’مسلح دہشت گردوں‘ پر عائد کرتی آئی ہے۔

XS
SM
MD
LG