رسائی کے لنکس

شام امن مذاکرات، آغاز جمعے سے جنیوا میں متوقع


فائل

فائل

اقوام متحدہ کے ایلچی برائے شام نے کہا ہے کہ وہ منگل کو مذاکرات کے دعوت نامے روانہ کریں گے۔ اقوام متحدہ اِس بات کا خواہاں ہے کہ پیر سے بات چیت کا آغاز ہو، لیکن اِس معاملے پر کہ کسے مدعو کیا جائے، بندوبست تاخیر کا باعث بنتا رہا ہے

اقوام متحدہ کے ایلچی برائے شام نے کہا ہے اُنھیں توقع ہے کہ حکومتِ شام اور حزب مخالف کے ارکان کے مابین امن مذاکرات کا انعقاد جمعے کو جنیوا میں ہوگا۔

استفان دی مستورا نے کہا ہے کہ وہ منگل کو مذاکرات کے دعوت نامے روانہ کریں گے۔

اقوام متحدہ اِس بات کا خواہاں ہے کہ پیر سے بات چیت کا آغاز ہو، لیکن اِس معاملے پر کہ کسے مدعو کیا جائے، بندوبست تاخیر کا باعث بنتا رہا ہے۔

لائوس کے دورے کے دوران، امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ یہ بہتر ہے کہ چند روز انتظار کرکے اِس عمل کو جاری کیا جائے، بجائے اس بات کے کہ یہ کوشش پہلے روز ہی ناکام ہو۔

بقول کیری، ''ہم کرنا یہ چاہتے ہیں کہ اِس بات کو یقینی بنایا جائے کہ جب یہ (بات چیت) شروع ہو، ہر کوئی باخبر ہو کہ یہ کس طرح کی سعی ہے، تاکہ ایسا نہ کہ آپ وہاں جائیں اور سوالات اُٹھائیں یا آپ کو ناکامی کا سامنا ہو''۔

متحارب گروہ

اُنھوں نے حزب مخالف کی حمایت کا اعادہ کیا، جس سے قبل اپوزیشن کے عہدے داروں کی جانب سے یہ بیانات سامنے آئے ہیں کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دبائو ڈال کر اُنھیں مذاکرات میں شامل کیا جا رہا ہے۔

کیری کے بقول، ''اپوزیشن کے بارے میں امریکی مئوقف تبدیل نہیں ہوا۔ ہم سیاسی، مالی اور عسکری لحاظ سے اب بھی حزب مخالف کے حامی ہیں۔''

اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ بالآخر یہ بات شام کے فریق پر منحصر ہے آیا وہ اپنے ملک کے مستقبل کے بارے میں کیا فیصلہ کرتے ہیں، جس میں صدر بشار الاسد سے متعلق فیصلہ بھی شامل ہے۔

بقول اُن کے، ''میں نے اُن کو بتا دیا ہے کہ آپ کو ویٹو کا اختیار ہے، جیسا کہ میرے پاس ہے؛ اس لیے، آپ کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا آیا کس طرح آگے بڑھا جائے''۔

کیری نے شامی حکومت کے بیانات کو کوئی اہمیت نہیں دی، جِن میں کہا گیا تھا کہ مذاکرات میں شمولیت کی خاطر وہ اپنے مئوقف کو تبدیل نہیں کرسکتے۔

اِس سے قبل، اقوام متحدہ نے شام کے بارے میں سمجھوتا کرانے کی دو بار کوشش کی ہے۔ لیکن، دو برس قبل امن کی یہ کوشش زیادہ پیش رفت کے بغیر آگے نہ بڑھ سکی تھی۔

XS
SM
MD
LG