رسائی کے لنکس

شام: امن مذاکرات پیر سے دوبارہ شروع ہوں گے


فائل فوٹو

فائل فوٹو

شام کی حزب مخالف کے بڑے گروپ کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد الوش نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ان کےخیال میں عبوری دور کا آغاز بشار الاسد کے اقتدار سے الگ ہونے سے ہونا چاہیئے۔

شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اسٹافن ڈی مستورا شام میں گزشت پانچ سال سے جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے پیر کو شامی حزب اختلاف کے دھڑوں سے "اہم مذاکرات" کریں گے۔

انہوں نے اتوار کو شامی حکومت اور باغیوں کی نمائندوں سے ملاقاتیں کیں اور وہ بات چیت کے اس مرحلے کو دس روز تک جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

تاہم سب سے اہم سوال اب بھی یہ ہے کہ ہر ایک فریق اس جنگ کو روکنے کے لیے کیا کچھ قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس لڑائی میں اب تک تین لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں شامیوں کو اپنے گھر بار چھوڑنے پڑے۔

شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم نے پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ شامی صدر بشار الاسد کے مستقبل کے متعلق کوئی بات چیت نہیں ہو گی جبکہ حزب مخالف اور شام سے باہر امریکہ سمیت کئی ایک ممالک یہ کہہ چکے ہیں کہ امن کے حصول کے لیے بشار الاسد اپنا عہدہ چھوڑ دیں۔

شام کی حزب مخالف کے بڑے گروپ کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد الوش نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ان کےخیال میں عبوری دور کا آغاز بشار الاسد کے اقتدار سے الگ ہونے سے ہونا چاہیئے۔

اقوام متحدہ میں شام کے سفیر بشار جعفری نے اتوار کو جنیوا میں کہا کہ پیشگی شرائط عائد کرنا مذاکرات کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے اور یہ مذاکرات بغیر کسی بیرونی مداخلت کے شامیوں کے مابین ہو رہے ہیں۔

اقوام متحدہ ان امن مذاکرات کی ثالثی کر رہی ہے۔ اس مرحلے پر یہ ثالثی بلواسطہ ہے جس میں مستوار ایک وقت میں ایک ہی فریق سے بات کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے علاقائی اور عالمی طاقتوں کے درمیان گزشتہ سال طے پانے والے ایک معاہدے کے تحت ان مذاکرات کو عمل میں لا رہے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت عارضی جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا اور اس کے ساتھ شامیوں پر ایک ایسا معاہدہ کرنے پر زور دیا گیا جس میں نئے انتخابات اور نئے آئین کے لیے ایک لائحہ عمل بھی شامل ہے۔

گزشتہ دو ہفتوں سے بڑی حد تک جنگ بندی معاہدے پر عمل ہورہا ہے تاہم دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر اس کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اتوار کو کہا کہ تشدد میں 80 سے 90 فیصد تک بہت نمایاں کمی آئی ہے۔ تاہم انہوں نے شامی حکومت پر ان مذکرات کو واضح طور پر سبوتاژ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس عارضی جنگ بندی کی سب سے بڑی خلاف ورزی اسد حکومت کررہی ہے۔

کیری نے یہ بیان برطانوی، فرانسیسی، جرمن اور اطالوی وزرائے خارجہ سے اتوار کو پیرس میں ہونے والی ملاقات کے بعد دیا جس میں شامی بحران کے متعلق بات چیت کی گئی۔

اقوام متحدہ کے عہدیدارو ں کا کہنا ہے کہ عارضی جنگ بندی معاہدے کی وجہ سے اقوام متحدہ اور دوسرے شراکت داروں کے لیے ایک لاکھ سے زئد ان شامیوں تک خوراک، ادویات اور دوسری امدادی اشیا پہنچانا ممکن ہوا جو ان علاقوں میں مقیم ہیں جو یا تو سرکاری فوجوں یا حزب مخالف کی فورسز کے محاصرے میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ سال ان علاقوں تک رسائی حاصل نہیں کر سکے تھے۔

تاہم جان کیری نے کہا کہ شامی حکومت کی طرف سے ان علاقوں تک ادوایہ اور طبی سامان کی ترسیل روکنے کی کوششوں پر انہیں اب بھی تشویش ہے۔

XS
SM
MD
LG