رسائی کے لنکس

بیرونی طاقتیں شام کو تباہ کرنا چاہتی ہیں: اسد


شام کے صدر بشار الاسد (فائل فوٹو)

شام کے صدر بشار الاسد (فائل فوٹو)

شام کے صدر بشار الاسد نے کہا ہے کہ اُن کے ملک کو ایک بیرونی منصوبے کے تحت تباہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

پارلیمنٹ سے اتوار کو اپنے خطاب میں مسٹر اسد نے کہا کہ شام کو کسی سیاسی مسئلے کا سامنا نہیں بلکہ ملک میں دہشت گردی کے ذریعے فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دی جا رہی ہے۔

سرکاری ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر ہونے والے اس خطاب میں اُنھوں نے کہا کہ اصل مسئلہ دہشت گردی کا ہے جس میں گزشتہ ماہ ہونے والے پارلیمانی انتخابات سمیت مختلف سیاسی اقدامات کے باوجود اضافہ ہو رہا ہے۔

مسٹر اسد نے پارلیمنٹ سے خطاب دوہا میں ہونے والے عرب لیگ کے ہنگامی اجلاس کے ایک روز بعد کیا ہے۔ عرب لیگ کے اجلاس میں اقوام متحدہ کے نمائندے کوفی عنان بھی موجود تھے۔

کوفی عنان کا کہنا تھا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ شام میں ’’جنگ کا خطرہ‘‘ بڑھتا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ خواتین اور بچوں سمیت عام افراد کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کرنے کے واقعات اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ شام میں تشدد پسند عناصر قابو سے باہر ہو رہے ہیں۔

ہفتہ کو امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے اپنے روسی ہم منصب سرگئی لارویو سے گفتگو میں شام میں سیاسی حکمت عملی وضع کرنے کے سلسلے میں امریکہ اور روس کے تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔

عرب لیگ نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل سے شام میں موجود 300 مبصرین کی جگہ اقوام متحدہ کی امن فوج تعینات کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG