رسائی کے لنکس

دمشق عوام کے مطالبات پر توجہ دے: عرب لیگ


دمشق عوام کے مطالبات پر توجہ دے: عرب لیگ

دمشق عوام کے مطالبات پر توجہ دے: عرب لیگ

عرب لیگ نے شام سے خون ریزی بند کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاہے کہ عوام کے سیاسی اور سماجی اصلاحات کانفاذ دیکھنے کے حق کا احترام کیا جانا چاہیے۔

اتوار کی صبح قاہرہ میں ختم ہونے ہونے والے ایک ہنگامی اجلاس میں عرب لیگ نے کہاہے کہ وہ مسئلے کا حل ڈھونڈنے کے لیے سیکرٹری جنرل نبیل العربی کو خفیہ طور پر دمشق بھیج رہی ہے۔

عرب ممالک کی تنظیم نے شام میں جاری تشدد پر اپنے گہرے تحفظات کا اظہار کیا جو اب تک ہزاروں شہریوں کی جانیں لے چکاہے۔

عرب لیگ کا یہ بیان ، شام کے قریبی سب سے قریبی اتحادی ایران کے اس اپیل کے بعد سامنے آیا ہے جس میں دمشق سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے عوام کے جائز مطالبات پر دھیان دے۔

شام کے بشارالاسد کے خلاف پانچ ماہ سے جاری عوامی تحریک کے بارے میں ایران کے وزیر خارجہ اکبر علی صالحیی کی جانب سے منظر عام پر آنے والا یہ پہلا ایسا بیان ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے دمشق کو خبردار کیا ہے کہ اگر شام کے بحران کو حل نہ کیا گیاتو علاقے کی صورت حال پر اس کے خطرناک اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ شام میں طاقت کا خلا پیدا ہونے سے اس کے ہمسایے بھی غیر معمولی طورپر متاثر ہوسکتے ہیں۔

لیکن بڑے پیمانے پر امن کے لیے اپیلوں کے باوجود شام کے سرگرم کارکنوں کا کہناہے کہ مسٹر بشارالاسد کی وفاردار فورسز نے ایک بار پھر حکومت مخالف مظاہرین پر حملے کیے ہیں۔ اور مختلف شہروں میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران کم ازکم دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

شام میں سرگرم کارکنوں کا کہناہے کہ صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز اورحکومت مخالف مظاہرین کے درمیان دارالحکومت دمشق سمیت ملک کے کئی شہروں میں جھڑپیں ہوئی ہیں۔

سرگرم کارکنوں نے ہفتے کے روز کہا کہ حکومت کی حامی فورسز نے دارالحکومت میں مظاہرے کے لیے ایک مسجد سے باہر نکلنے والے افراد پر حملہ کیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے شمالی قصبے ادلب میں حکومت مخالف جلوس پر حملہ کرکے ایک شخص کو ہلاک کردیا۔

لیکن شام کی حکومت نے دمشق میں مظاہروں کی تردید کی ہے۔ سرکاری خبررساں ادارے ثنا نے کہا ہے کہ غیر ملکی خبررساں ادارے جھوٹی کہانیاں سنارہے ہیں۔

ایک اور خبر کے مطابق عرب لیگ شام کے بحران پر گفتگو کے لیے قاہرہ میں اجلاس کررہی ہے۔

اقوام متحدہ کا کہناہے کہ حکومت کی جانب سے منحرفین کے خلاف پرتشدد پکڑ دھکڑ کی کارروائیوں میں دو ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ جب کہ صدر بشارالاسد زیادہ تر ہلاکتوں کی ذمہ داری ایسے افراد پر عائد کرتے ہیں جو بقول ان کے دہشت گردہیں اور جنہوں نے اپنے گینگ بنارکھے ہیں۔

جمعے کے روز انسانی حقوق کی تنظیموں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے دمشق کے مضافاتی علاقے دوما، جنوبی صوبے دارا اور مشرقی قصبے دیر الزور میں مظاہرین پر گولیاں برسائیں جس کے نتیجے میں کم ازکم تین افراد ہلاک ہوگئے۔

لیکن شام کے حکام نے اس خبرکی یہ کہتے ہوئے تردید کی ہے کہ نقاب پوش مسلح افراد نے دیرالزور میں قانون نافذ کرنے والے اہل کاروں پر گولیاں چلائیں جس سے تین اہل کار زخمی ہوگئے۔

سرکاری خبررساں ادارے ثنا نے کہاہے کہ قانون نافذ کرنے والے عہدے داروں نے جوابی کارروائی کرکے دو مسلح افراد کو ہلاک کردیا۔ خبررساں ادارے کا یہ بھی کہناہے کہ مسلح افراد نے دوما میں بھی ایک سرکاری عمارت پر حملہ کرکے دو محافظوں کو زخمی کردیا۔

XS
SM
MD
LG