رسائی کے لنکس

شام: اصلاحات کے اعلان کے باوجود مظاہرے جاری


شام: اصلاحات کے اعلان کے باوجود مظاہرے جاری

شام: اصلاحات کے اعلان کے باوجود مظاہرے جاری

شام میں حکومت کے اس اعلان کے ایک روز بعد کہ وہ مظاہرین کے مطالبات پورے کرنے کے لیے اصلاحات کانفاذ کرے گی، ملک بھر میں مزید مظاہرے ہوئے ہیں۔

حکومت مخالف مظاہرین مختلف مقامات پر جمعے کی نماز کے بعد اکھٹے ہوئے۔ حکومت کے خلاف جاری ان مظاہروں کو صدر بشارالاسد کے 11 سالہ اقتدار اور ان کے خاندان کی طویل عرصے سے جاری حاکمیت کے لیے ایک خطرے کے طورپر دیکھا جارہاہے۔

جمعرات کے روز مسٹر اسد نے جن اصلاحات کا اعلان کیا تھا ان میں ملک میں نافذ ہنگامی قوانین اٹھانے کے جائزے کے لیے ایک کمیٹی کا قیام بھی شامل ہے۔ شام کے سرکاری خبررساں ادارے ثنا نے کہاہے کہ کمیٹی 25 اپریل تک جائزے کا کام مکمل کرلے گی۔

حالیہ ہفتوں میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ہنگامی قوانین اٹھانے کا مطالبہ سرفہرست رہاہے۔

ثنا نیوز ایجنسی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مسٹر اسد نے درعا اور لاذقیہ کے شہروں میں عام شہریوں اور فوجیوں کی ہلاکتوں کے معاملات کے جائزے کے لیے بھی ایک کمیٹی قائم کرنے کا کہاہے۔ یہ دونوں شہر گذشتہ دو ہفتوں کے دوران حکومت مخالف مظاہروں کا مرکز رہے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم واچ نے کہاہے کہ ملک میں بے چینی کی لہر کے آغاز سے اب تک جھڑپوں میں61 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

جمعرات کے روز امریکہ نے شام میں موجود اپنے باشندوں کومشورہ دیا کہ وہ درعا اور لاذقیہ اور اس کے نزدیکی شہروں اور قصبوں میں جانے سے گریز کریں۔ امریکی وزارت خارجہ نے اپنے شہریوں کو شام کے سفر سے اجنتاب کے لیے بھی کہاہے۔

XS
SM
MD
LG