رسائی کے لنکس

شام کی فوج اتوار کو گذشتہ چھ ہفتوں سے حکومت مخالف مظاہروں کا مرکز بنے ہوئے شہر درعا میں داخل ہو گئی، جہاں عینی شاہدین کے مطابق اہلکاروں نے فائرنگ کرنے کے علاوہ لوگوں کو گرفتار بھی کیا۔

درہ میں گذشتہ چھ روز سے ایندھن، پانی اور بجلی دستیاب نہیں ہے۔

انسانی حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ فوج اور ماہر نشانہ بازوں نے ہفتہ کو درعا میں شہریوں پر گولیاں چلائیں جس سے چھ افراد مارے گئے۔ کارکنوں کے بقول ایک گھر پر ٹینک سے داغہ گیا گولہ لگنے سے اس میں موجود ایک خاتون اور اُن کی دو بیٹیاں ہلاک ہو گئیں۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ فوجی درعا کی اُس مرکزی مسجد کا کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں جہاں حکومت مخالف مظاہرین جمع ہو رہے ہیں۔

جمعہ کو درعا سمیت شام کے مختلف شہروں میں مظاہرین کے خلاف کی گئی کارروائیوں میں انسانی حقوق کے کارکنون اور عینی شاہدین کے بقول کم از کم 65 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

XS
SM
MD
LG