رسائی کے لنکس

شام میں بڑے پیمانے پر حکومت مخالف مظاہرے


شام میں بڑے پیمانے پر حکومت مخالف مظاہرے

شام میں بڑے پیمانے پر حکومت مخالف مظاہرے

شام میں جہاں گذشتہ کئی ہفتوں سے صدر بشارالاسد اور ان کی حکمران جماعت کے خلاف مظاہرے جاری ہیں، جمعے کے روز ان کی شدت میں مزید اضافہ ہوا اور ملک کے کئی شہروں میں حزب اختلاف نے مظاہرے کیے۔

شام میں غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی رسائی محدود کردی گئی ہے۔ لیکن ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شام کی سیکیورٹی فورسز نے جنوبی شہر ردعا میں مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے ان پر گولیاں چلائیں اور آنسو گیس کے گولے پھینکے۔ اس شہر کو حالیہ مظاہروں میں ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

روئیٹرز نے اپنی ایک رپورٹ میں مشرقی شام کے کرد علاقے میں مظاہروں کی اطلاع دی ہے جہاں ایک روز قبل مسٹر اسد نے کچھ کردوں کو شام کی شہریت دینے کی پیش کش کی تھی۔

ردعا میں مظاہریں ہزاروں سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کررہے تھے جن میں سے بہت سے کرد باشندے ہیں۔

کردوں کوشکایت ہے کہ حکومت ان سے تعصب کا برتاؤ کرتی ہے اور شہریت نہ ہونے کے باعث وہاں کی نسلی اقلیتوں کو بعض اوقات ملازمت حاصل کرنے میں دقتوں کا سامنا کرناپڑتا ہے۔

صدر اسد نے حال ہی میں کئی اصلاحات متعارف کرائی ہیں جن میں لیڈرشپ کے عہدوں میں تبدیلی اور ملک میں نافذ ہنگامی قوانین اٹھانے کے جائزے کے لیے ایک کمیٹی کا قیام شامل ہے۔

تاہم ان کی یہ پیشکش حزب اختلاف کے مطالبے پورے کرنے میں ناکام رہی ہے۔

حکومت مخالف کارکنوں نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ ان 60 افراد کی ہلاکتوں پر احتجاج کے لیے اکھٹے ہوں جو حالیہ دنوں میں شام کے حکمرانوں کے خلاف مظاہروں میں مارے گئے تھے۔

حکومت نے ملک میں جاری سیاسی بے چینی اور ہلاکتوں کا الزام مسلح افراد پر لگایا ہے۔

XS
SM
MD
LG