رسائی کے لنکس

شام: سرکاری افواج کی کارروائی میں مزید 2 افراد ہلاک


شام: سرکاری افواج کی کارروائی میں مزید 2 افراد ہلاک

شام: سرکاری افواج کی کارروائی میں مزید 2 افراد ہلاک

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ شام کی سکیورٹی فورسز نے حکومت مخالفین کے خلاف جاری کارروائی میں وسطی شہر حمص میں مزید دو افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔

تازہ ہلاکتیں ایک ایسے وقت ہوئی ہیں جب ’انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس‘ کے سربراہ جیکب کیلن برجر شام کے صدر بشار الاسد سے ملاقات کرنے والے ہیں۔

اس سے قبل کیلن برجر نے اتوار کو شامی وزیرِ خارجہ ولید المعلم سے ملاقات کی تھی جس کے دوران زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی اور گرفتار شدگان تک عالمی اداروں کو رسائی دینے کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

انسانی حقوق کی مقامی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اتوار کو بھی شامی افواج کی شمال مغربی علاقوں میں کی گئی کارروائیوں میں 12 افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں سے آٹھ صوبہ اِدلب میں اور چار حمص کے نزدیک وسطی قصبات میں مارے گئے۔ مذکورہ دونوں علاقے حکومت مخالف تحریک کا گڑھ تصور کیے جاتے ہیں اور بدترین حکومتی کریک ڈاؤن کا سامنا کر رہے ہیں۔

اتوار ہی کو جاری کی گئی ایک خبر میں سرکاری ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا تھا کہ مسلح ’’دہشت گرد‘‘ گروپوں نے وسطی شام میں ایک بس پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں چھ فوجی اور تین عام شہری ہلاک ہو گئے۔

گزشتہ روز عرب لیگ کے سربراہ نبیل الاعرابی نے کہا تھا کہ شام نے اُن کے دورے کی میزبانی پر رضامندی کا اظہار کردیا ہے اور مجوزہ دورہ رواں ہفتے ہو سکتا ہے۔

عرب ممالک کی تنظیم کےسیکرٹری جنرل نے اتوار کو قاہرہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومتِ شام نے اُنھیں بتایا ہے کہ وہ اُن کے دورے کا ’’خیر مقدم‘‘ کرے گی۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ ہلاکت خیز تشدد کے واقعات پر عربوں کی طرف سے تشویش کا اظہار کریں گے جِس کے باعث بقول ان کے شام لرز کر رہ گیا ہے، اور اس سلسلے میں شام کے راہنماؤں کی آراء کو سنیں گے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ حکومتِ شام کی طرف سےمارچ سے جاری پُر تشدد کارروائیوں میں اب تک 2,200 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جب سیاسی اصلاحات اور صدر بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے تھے۔

حکومتِ شام کا کہنا ہے کہ تشدد کی کارروائیوں کے ذمہ دار، اُس کے بقول، وہ مسلح جتھے اور دہشت گرد ہیں جِنھیں غیر ملکی سازشی عناصر کی حمایت حاصل ہے۔

XS
SM
MD
LG