رسائی کے لنکس

شام میں سیاسی اصلاحات کا اعلان


شام میں مارچ سے صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف تحریک جاری ہے اور مظاہرین سیاسی اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

شام میں مارچ سے صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف تحریک جاری ہے اور مظاہرین سیاسی اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

شام کے صدر بشار الاسد نے ایک حکم نامہ جاری کیا ہے جس کے تحت شہریوں کو سیاسی جماعتیں تشکیل دینے کی اجازت دی گئی ہے۔

یہ صدارتی حکم نامہ ایک ایسے وقت جاری ہوا ہے جب ملک میں سیاسی مخالفین کے خلاف حکومت کی کارروائیوں کے دوران ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے ثنا نے جمعرات کے روز کہا کہ صدارتی حکم نامہ شہریوں کو سیاسی جماعتیں تشکیل دینے یا اُن میں شمولیت کا حق دیتا ہے بشرطیکہ بعض شرائط پوری کی جائیں۔ ان شرائط میں جماعتوں کی جانب سے آئین و قانون کی پاسداری اور مذہب اور قبیلے کی بنیاد پر سیاسی جماعتوں کی تشکیل سے اجتناب شامل ہے۔

یہ پیش رفت شام میں ایک جماعتی نظام میں تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے جس پر کئی دہائیوں سے اسد خاندان کی بعث پارٹی حاوی رہی ہے۔ لیکن لندن میں مقیم سیاسی تجزیہ کار ندیم شیشادہ نے اسے ’’عالمی برادری کو الجھن میں ڈالنے‘‘ کی چال قرار دیا ہے۔ اُن کے خیال میں شام کے شہریوں کی اکثریت سمجھتی ہے کہ یہ اقدام کارآمد نہیں۔

جولائی میں شامی حکومت نے اس اقدام کے مسودے کی منظوری دی تھی، جو بظاہر حکومت مخلاف مظاہرین کی طرف سے سیاسی اصلاحات کے مطالبات کی جانب ایک قدم ہے۔

امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن کا کہنا ہے کہ مسٹر اسد شام میں اپنی قانونی حیثیت کھو چکے ہیں اور امریکہ اپنے اتحادیوں سے مل کر شامی حکومت پر مشترکہ طور پر دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی پر کام کر رہا ہے۔

جمعرات کو اوباما انتظامیہ نے شام کے ایک اہم تاجر اور رکن پارلیمان پر پابندیوں کا اعلان کیا جو اس کے بقول صدر اسد کی ہدایت پر کام کر رہا تھا۔

سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چار روز کے دوران شام میں 130 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ بیشتر ہلاکتیں وسطی شہر حما میں ہوئی ہیں جس کا سرکاری فورسز نے گزشتہ اتوار سے محاصرہ کر رکھا ہے۔

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے بدھ کے روز شام کی حکومت کو شہریوں پر حملے کرنے اور بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

حقوق انسانی کی تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ شام کی سکیورٹی فورسز مارچ میں شروع ہونے والی حکومت مخالف تحریک کے بعد سے 1,700 سے زائد شہریوں کو ہلاک کر چکی ہیں۔ تاہم حکومت بیشتر ہلاکتوں کا ذمہ دار اس کے بقول دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں کو ٹھہراتی ہے۔

XS
SM
MD
LG