رسائی کے لنکس

کئی برسوں سے، باغیوں نے فوا اور کفریہ کےشمال مغربی قصبہ جات کو محصور بنا رکھا ہے، جب کہ حکومت نواز افواج نے دمشق کے قریب زبدانی اور مدیہ پر قبضہ جمایا ہوا ہے

حکومت شام اور صدر بشار الاسد کے مخالف باغیوں کے درمیان ایک سمجھوتا طے پا گیا ہے، جس کے تحت دونوں فریق کے لڑاکوں کے زیر قبضہ قصبہ جات سے شہری آبادی کا انخلا ممکن ہو سکے گا۔

کئی برسوں سے، باغیوں نے فوا اور کفریہ کےشمال مغربی قصبہ جات کو محصور بنا رکھا ہے، جب کہ حکومت نواز افواج نے دمشق کے قریب زبدانی اور مدیہ پر قبضہ جمایا ہوا ہے۔

گذشتہ چھ برسوں سے شام کے تنازع کے دوران، انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے، ’سیرئن آبزرویٹری‘ نے بتایا ہے کہ انخلا کے کام کا آغاز چار اپریل سے ہوگا۔ اس سمجھوتے کے نتیجے میں اِن قصہ جات میں جنگ بندی بھی عمل میں آئے گی۔ آبزرویٹری نے کہا ہے کہ بدھ کے روز اِن علاقوں میں حالات معمول پر تھے۔

پچھلے سمجھوتوں کے تحت چار قصبوں میں لوگوں کے چلے جانے اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رسد کی فراہمی کی اجازت دی گئی تھی۔ اقوام متحدہ اور امدادی گروپوں نے شکایت کی تھی کہ کچھ اوقات کے دوران قصبوں تک جانے کی رسائی فراہم نہیں کی گئی، حالانکہ سمجھوتے طے ہو چکے تھے۔

اقوام متحدہ نے شام میں تمام فریق سے بارہا اس بات کا بھی مطالبہ کیا ہے کہ لڑائی کے دوران قبضے کو ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرنا بند کیا جائے۔

شام کا تنازعہ مارچ 2011ء میں اسد کے خلاف شروع ہوا، جس کے بعد اس نے پیچیدہ خانہ جنگی کی صورتِ حال اختیار کر لی، جس میں اب حکومت کی حامی افواج اور مختلف باغی گروپ شامل ہیں، جن میں داعش کے لڑاکے، روس اور امریکہ کی قیادت والے اتحادوں کی جانب سے فضائی کارروائیاں، اور شمالی شام میں ترک افواج کارروائی کرتی ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ایک کروڑ 35 لاکھ افراد کو امداد کی ضرورت ہے، جب کہ تقریباً 50 لاکھ مہاجرین ملک چھوڑ کر جاچکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG