رسائی کے لنکس

خود کو 'بابا امر انقلابی بریگیڈ' کہلانے والے باغیوں نے کہا کہ "حکمتِ عملی کے تحت" کی جانے والی ان کی پسپائی سے علاقے کو درپیش انسانی بحران کی سنگینی کا اظہار ہوتا ہے

شامی حکومت کے خلاف سرگرم باغیوں کا کہنا ہے کہ وہ صدر بشار الاسد کی حامی افواج کی ایک ماہ سے جاری کاروائی اور بمباری کے بعد وسطی شہر حمص میں اپنے زیرِ قبضہ علاقوں سے پسپا ہوگئے ہیں۔

حمص کے بابا امر نامی علاقے پر قابض باغیوں نے جمعرات کو اعلان کیا کہ وہ علاقے میں موجود چار ہزار کے لگ بھگ ان عام افراد کو کسی نقصان سے بچانے کے لیے علاقہ خالی کر رہے ہیں جو اپنے گھروں میں رہنے پر مصر ہیں۔

خود کو 'بابا امر انقلابی بریگیڈ' کہلانے والے باغیوں نے کہا کہ "حکمتِ عملی کے تحت" کی جانے والی ان کی پسپائی سے علاقے کو درپیش انسانی بحران کی سنگینی کا اظہار ہوتا ہے جہاں خوراک، ادویات اور پانی کی قلت شدید ہے۔

باغیوں کے بقول علاقے کی بجلی اور بیرونی دنیا سے رابطے کے ذرائع منقطع ہیں جب کہ وہ اسلحے کی کمی کا بھی شکار تھے۔

لندن میں قائم شامی حزبِ اختلاف کی حامی تنظیم 'سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس' کا کہنا ہے کہ صدر الاسد کی حامی افواج بابا امر کے نواحی علاقوں میں داخل ہوگئی ہیں اور وہاں موجود گھروں پر چھاپے مارے جارہے ہیں۔

مرکز کا کہنا ہے کہ سرکاری افواج کی بابا امر میں کی گئی کاروائیوں میں جمعرات کو کم از کم 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

بابا امر کے باغیوں نے جمعرات کو جاری کیے گئے اپنے بیان میں عالمی امدادی تنظیم 'ریڈ کراس' سے محصور علاقے میں امدادی سامان پہنچانے کی اپیل بھی کی ہے۔

باغیوں نے اپنے بیان میں سرکاری فوج کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے علاقے کے عام باشندوں کو انتقامی کاروائی کا نشانہ بنایا تو انہیں حزبِ اختلاف کے دستوں کی جانب سے سخت جواب کا سامنا کرنا ہوگا۔

بعد ازاں، انٹرنیشنل کمیٹی فار ریڈ کراس نے اعلان کیا کہ شامی حکام نے امدادی تنظیموں کو جمعہ کو بابا امر کے علاقے میں خوراک اور ادویات سمیت امدادی سامان پہنچانے اور علاقے میں محصور افراد کے انخلا کی اجازت دیدی ہے۔

شامی افواج سے بغاوت کرنے والے فوجی اہلکاروں کی تنظیم 'فری سیرین آرمی' کے ترکی میں مقیم سربراہ کرنل ریاض الاسد نے تصدیق کی ہے کہ باغی جنگِ حکمتِ عملی کے تحت بابا امر سے نکل گئے ہیں تاکہ علاقے میں موجود عام شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔

اطلاعات کے مطابق علاقے پر شامی افواج نے مسلسل 27 دن تک گولہ باری کی تھی۔

حمص میں موجود ایک سیاسی کارکن نے 'وائس آف امریکہ' کو بتایا ہے کہ باغیوں کا علاقے سے انخلا سرنڈر نہیں بلکہ حکمتِ عملی کے تحت کی گئی پسپائی ہے کیوں کہ حزبِ اختلاف کے جنگجووں کے پاس اسلحہ ختم ہوگیا تھا۔

دریں اثنا، فرانس کے دارالحکومت پیرس میں موجود شامی حزبِ اختلاف کے اتحاد 'سیرین نیشنل کونسل' کے رہنمائوں نے ایک فوجی کونسل تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے تاکہ صدر الاسد کے خلاف جاری مسلح محاذ آرائی کو منظم کیا جاسکے۔

کونسل کے سربراہ برہان غالیون نے کہا ہے کہ اتحاد نے یہ اقدام 'فری سیرین آرمی' کے تعاون سے کیا ہے جس کے ذریعے دوسرے ممالک سے ملنے والے ہتھیاروں کو میدان میں موجود باغیوں تک پہنچانے میں مدد ملے گی۔

غالیون نے یہ تو واضح نہیں کیا کہ انہیں ہتھیاروں کی فراہمی کی امید کس ملک سے ہے لیکن یاد رہے کہ سعودی عرب، قطر اور کویت نے حال ہی میں شامی حزبِ اختلاف کو مسلح کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

XS
SM
MD
LG