رسائی کے لنکس

داعش پر اتحاد کے حملوں کی بلواسطہ معلومات ملتی ہیں: شامی صدر


شام کے صدر بشار الاسد

شام کے صدر بشار الاسد

صدر نے اس بات کی بھی سختی سے تردید کی کہ شام کی فورسز نے تقریباً چار سال سے جاری خانہ جنگی میں بیرل بم استعمال کیے۔

شام کے صدر بشارالاسد نے کہا ہے کہ ملک میں داعش کے شدت پسندوں کے خلاف امریکہ کی زیر قیادت ہونے والے فضائی حملوں کی معلومات ملتی ہیں لیکن ان کے بقول اس بارے میں کوئی براہ راست تعاون موجود نہیں ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے "بی بی سی" کو دمشق میں دیے گئے ایک انٹرویو میں بشار الاسد نے بتایا کہ اس بارے میں تیسرے فریق ( جیسے کہ عراق) کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہوتا ہے لیکن ان میں کوئی اسٹریٹجک معلومات نہیں ہوتیں۔

صدر کا کہنا تھا کہ شام امریکہ کے زیر قیادت اتحاد کا حصہ نہیں بنے گا۔

"ہم قطعی طور پر اس کا حصہ نہیں بننا چاہتے اور اس کی ایک واضح وجہ ہے، کیونکہ ایسے ملک کے ساتھ اتحاد نہیں کر سکتے جو دہشت گردی کی حمایت کرتا ہے۔"

شام کی حکومت بشار الاسد کی مخالف فورسز کے لیے "دہشت گرد" کی اصطلاح استعمال کرتی رہی ہے اور ان میں داعش اور القاعدہ سے منسلک النصرہ فرنٹ بھی شامل ہیں۔

صدر اسد کا کہنا تھا کہ اتحاد میں شامل بہت سے ممالک دہشت گردی کے حامی ہیں۔

انھوں نے اس بات کی بھی سختی سے تردید کی کہ شام کی فورسز نے تقریباً چار سال سے جاری خانہ جنگی میں بیرل بم استعمال کیے۔ ان کے بقول "ہمارے پاس بم، میزائل اور گولیاں ہیں لیکن بیرل بم نہیں۔"

"یہ بچگانہ کہانی ہے جو مغرب میں بار بار دہرائی جا رہی ہے۔"

ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور شام میں انسانی حقوق پر نظر رکھنے والے اقوام متحدہ کے پینل کا الزام ہے کہ سرکاری فورسز نے گنجان آباد علاقوں میں حملے کے دوران بیرل بم استعمال کیے۔

اسد نے کہا کہ جس جنگ میں شہری ہلاکتیں ہوں وہ جنگ "ایک بری جنگ" ہے۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ شام کے لوگوں کے لیے یہ "ناممکن" ہوتا کہ وہ اس صورت میں بھی ان کی حمایت کرتے کہ جب ان کی فورسز شہریوں پر حملہ آور رہیں۔

انھوں نے استفہامیہ انداز میں کہا کہ "اگر ہم وہ ہوتے جو اپنے ہی لوگوں کو ہلاک کرتے، جیسا کہ وہ (مخالفین) کہتے ہیں، تو ہم چار سال تک کیسے یہاں موجود رہتے۔"

شام کے صدر نے یہ بھی کہا کہ ان کی فوج نے اسکولوں پر بمباری نہیں کی۔ شام سے متعلق اقوام متحدہ کے انکوائری مشن نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں متعدد اسکولوں پر حملوں کا ذکر کیا جس میں وہ فضائی حملے بھی شامل تھے جو فضائیہ نے ان پناہ گاہوں پر کیے جہاں بے گھر ہونے والے افراد کو عارضی طور پر رکھا گیا تھا۔

اس رپورٹ میں اسد حکومت کے باغیوں پر بھی بعض اسکولوں پر حملے کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG