رسائی کے لنکس

شام میں امن وامان کی خراب صورت حال کے باعث اکثر افراد ، جن میں ہر عمر کے لوگ شامل ہیں، اپنی جانیں بچانے کے لیے ملک چھوڑنے کی کوششیں کررہے ہیں۔ جن میں سے اکثر کی منزل ترکی ہوتی ہے۔

شام کی سرحد کے قریب ترکی میں واقع پناہ گزینوں کا کیمپ ریحانلی میں تین ہزارسے زیادہ افراد مقیم ہیں، جن میں اکثریت بچوں کی ہے۔

ترک حکومت انہیں زندگی کی بنیادی سہولتیں فراہم کررہی ہے ، جن میں کھلونے ، ٹافیاں اور میٹھی گولیاں تک شامل ہیں، جس سے بچے بہت خوش ہیں ۔

خیمے ان بچوں کے لیے گھر کا درجہ رکھتے ہیں لیکن حقائق خاصے تلخ ہیں۔14 سالہ مصطفی آٹھ ماہ قبل اس کیمپ میں اپنے خاندان کے ساتھ آیاتھا۔ اس کا کہناہے کہ ہم ایک کار کے ذریعے ترکی آئے اور تین ترک فوجیوں نے ہمیں اس کیمپ میں پہنچایا۔

مصطفی کا کہنا ہے کہ ان کے چچا فوج کے ایک سینیئر عہدے دار تھے ، جو صدر بشارالاسد سے بغاوت کرکے غائب ہوگئے تھے لیکن بعدازاں انہوں نے ٹیلی ویژن پر ظاہر ہوکر معافی مانگ لی۔

اس نے بتایا کہ اس کے ایک کزن کو مار کر درخت سے لٹکا دیا گیاتھا۔انہوں نے میرے چچا کوبھی گرفتار کرنے کے بعد ہلاک کردیا۔

13 سالہ سارہ حال ہی حمص سے اس کیمپ میں پہنچی ہے۔ یہ شہر ایک عرصے سے سرکاری فوجوں کی کارروائیوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ سارہ کا کہناہے کہ بمباری سے ان کا گھر مکمل طورپر تباہ ہوگیا تھا۔

اس نے بتایا کہ وہاں ہر جگہ خون ہی خون دکھائی دیتا تھا۔ سرکاری فوجی لوگوں کو ہلاک کررہے تھے کیونکہ انہیں شبہ تھا کہ وہ مسلح ہیں۔ لیکن شہریوں کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ وہ پرامن تھے۔

سارہ کا کہناہے کہ اس نے اسکول کی پڑھائی ترک کردی اور شہر چھوڑ دیا کیونکہ وہاں رہنا انتہائی خطرناک ہوچکاتھا۔

سارہ نے شام کے صدر کے نام اپنے ایک خط میں لکھاہے کہ ہمیں تنہا چھوڑ دو۔ ہم جانور نہیں ہیں۔ تم ہمیں اذیتیں دے کر ہلاک کرنا چاہتے ہو۔

اقوام متحدہ کا کہناہے کہ گذ شتہ سال شروع ہونے والی شورش کے بعد شام میں 400 سے زیادہ بچے ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ ہزاروں زخمی ہیں۔

مشکلات کے باوجود، ترکی کے پناہ گزین کیمپ میں موجود بچے اپنے مستقبل سے پرامید ہیں اور انہیں توقع ہے کہ ایک روز وہ اپنے گھروں کوواپس لوٹ سکیں گے اور وہ ایک ایسا وقت ہوگا جب ملک میں سے تشدد کانام و نشان مٹ چکا ہوگا۔

XS
SM
MD
LG