رسائی کے لنکس

شام مخالف قرارداد کی منظوری خارج از امکان ہے، روس


شام مخالف قرارداد کی منظوری خارج از امکان ہے، روس

شام مخالف قرارداد کی منظوری خارج از امکان ہے، روس

ایک روسی سفارت کار نے کہا ہے کہ شام کے بحران کے حل کے لیے مغربی اور عرب ممالک کےتجویز کردہ منصوبے کی اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے منظوری دیے جانے کا کوئی امکان نہیں۔

واضح رہے کہ مغربی اور عرب ممالک عالمی ادارے سے شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف سخت اقدامات پر مشتمل قرارداد کی منظوری کا مطالبہ کر رہے ہیں تاہم کونسل کا مستقل اور ویٹو پاور کا حامل رکن روس اس مطالبے کی سخت مخالف کرتا آیا ہے۔

یورپی یونین کے لیے روس کے اعلیٰ سفارت کار ولادی میر شیزوف نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ عرب اور مغربی ممالک کی جانب سے شام کے بحران کے حل کے لیے جو منصوبہ تجویز کیا گیا ہے اس میں غیر ملکی فوجی مداخلت کا امکان رد نہیں کیا گیا جسے روس انتہائی اہم تصور کرتا ہے۔

ماسکو سلامتی کونسل کی جانب سے لیبیا کے بحران سے متعلق 2011ء میں منظور کردہ قرارداد جیسی کسی اور قرارداد کی منظوری نہیں چاہتا جسے نیٹو نے بعد ازاں لیبیا میں فوجی مداخلت کے لیے استعمال کیا تھا۔

منگل کو سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران مغربی ممالک کے سفارت کاروں نے روس کے ان تحفظات کو دور کرنے کی کوشش کی کہ شام کی حکومت کے خلاف مجوزہ قرارداد کے نتیجے میں شام میں غیر ملکی فوجی مداخلت کی راہ ہموار ہوجائےگی۔

یاد رہے کہ شام میں گزشتہ دس ماہ سے جاری حکومت مخالف احتجاجی تحریک اور اسے دبانے کے لیے سیکیورٹی فورسز کی پرتشدد کاروائیوں میں اب تک ساڑھے پانچ ہزار کے لگ بھگ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG