رسائی کے لنکس

شام کا تنازعہ مکالمے کے ذریعے حل کیا جائے: روس


سرگئی لوروف

سرگئی لوروف

’عبوری حکومت کےقیام کے امکانات کم ہوتے جارہے ہیں، تاہم یہ ابھی معدوم نہیں ہوئے‘

روسی وزیر خارجہ سرگئی لوروف نے امن کےبین الاقوامی ایلچی کی اُس کال کی تائید میں بیان دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ حکومت کےزیر سایہ قومی مکالمے اور سیاسی عمل کے ذریعے شام کی خانہ جنگی کے مسئلے کوحل کیا جائے۔

روسی وزرارت خارجہ نے لوروف کے حوالے سے بتایا ہے کہ اُنھوں نے دورے پر آئے ہوئے شام کے سفارتکار سے کہا کہ تنازع کے پُر امن حل کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اُنھوں نے یہ بیان جمعرات کے روز شام کے معاون وزیر خارجہ فیصل مکداد کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں دیا۔

روسی خبر رساں ایجنسی ’انٹرفیکس‘ کو دیے گئے ایک اور بیان میں لوروف نے متنبہ کیا کہ اگر شام کی خانہ جنگی مزید جاری رہتی ہے تو اِس کے مہلک نتائج برآمد ہوں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ عبوری حکومت کےقیام کے امکانات کم ہوتے جارہے ہیں، تاہم یہ ابھی معدوم نہیں ہوئے۔

روس ایک طویل مدت سے شام کے صدر بشار الاسد کا اتحادی رہا ہے۔

اِس سے قبل، آج ہی کے دِن امن کے بین الاقوامی ایلچی، لخدار براہیمی نے کہا کہ شام کی کسی بھی عبوری حکومت کو ’اصل تبدیلی‘ کا غماز ہونا چاہئیے اور اتنی بااختیار ہو کہ ملک میں نئے انتخابات منعقد کرائے جاسکیں۔

لاروف نے کہا کہ کسی بھی طرح کےحل کے لیے ضروری ہے کہ شام کے اندر وسیع تر مکالمے کو فروغ دیا جائے اور جنیوا میں پیش کیے گئے عملی منصوبے کی بنیاد پر سیاسی عمل کا آغاز کیا جائے، جس کی جون میں بین الاقوامی برادری نے حمایت کی تھی۔

روسی وزارت ِخارجہ نے کہا ہے کہ مکداد نے روسی مؤقف کو سراہا۔
XS
SM
MD
LG