رسائی کے لنکس

’داعش کے صرف پانچ فی صد اہداف نشانہ بن رہے ہیں‘


روسی بم حملہ

روسی بم حملہ

اخبار ’سن‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں، برطانیہ کے وزیر دفاع مائیکل فالون نے کہا ہے کہ برعکس اس کے، زیادہ تر روسی بموں کا نشانہ شام کے دیگر باغی گروپ بن رہے ہیں، جن میں مغرب کی حامی ’فری سیرئن آرمی‘ بھی شامل ہے، جب کہ اِن میں شہری ہلاک ہو رہے ہیں

برطانیہ کے وزیر دفاع نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ شام میں روس کے فضائی حملوں میں داعش کےمحض پانچ فی صد انتہا پسند نشانہ بنے ہیں، ایسے میں جب مغربی تشویش کے باوجود، روس چار روز سے فضائی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔

اخبار ’سن‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں، برطانیہ کے وزیر دفاع مائیکل فالون نے کہا ہے کہ برعکس اس کے، زیادہ تر روسی بموں کا نشانہ شام کے دیگر باغی گروپ بن رہے ہیں، جن میں مغرب کی حامی ’فری سیرئن آرمی‘ بھی شامل ہے، جب کہ حملوں میں شہری ہلاک ہو رہے ہیں۔
فالون کے بقول، ’ہم اس بات کا تجزیہ کر رہے ہیں آیا روزانہ صبح ہونے والی بمباری کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔ نشانہ بننے والوں کی اکثریت کا تعلق دولت اسلامیہ سے بالکل نہیں ہے‘۔

فالون نے کہا کہ ’شواہد سے پتا چلتا ہے کہ روس شہری علاقوں پر بم گرا رہا ہے، جس سے شہری ہلاک ہو رہے ہیں، اور وہ فری سیرئن فوجوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جو (شام کے صدر بشار ال) اسد کا مقابلہ کر رہی ہیں۔ وہ اسد کو بچانے کے لیے تباہی پھیلا رہے ہیں۔‘

روس نے اس ہفتے شام پر بم حملے شروع کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا خاص ہدف دولت اسلامیہ کی تنظیم ہے۔ تاہم، متعدد ابتدائی چھاپے امریکہ کے حامی سیرئن باغی گروپ کے خلاف مارے گئے ہیں۔ یہ بات علاقے میں موجود مغربی اہل کاروں اور مقامی لوگوں نے بتائی ہے۔

روسی فوج نے ہفتے کے دِن کہا ہے کہ گذشتہ 72 گھنٹوں کے دوران، روسی فضائیہ نے 60 سے زائد پروازیں کیں، جن کا ہدف شام میں داعش کی 50 سے زائد تنصیبات تھیں۔

اس میں کہا گیا ہے کہ دولت اسلامیہ کے کئی ایک ٹھکانے تباہ کیے گئے، جن میں رقہ میں کمان کی چوکی اور اسلحے کا ڈپو شامل ہے؛ جب کہ جسر الشغور میں آتشیں مواد کا ایک گودام اور صوبہ ادلب میں ایک تربیتی کیمپ شامل ہے۔

XS
SM
MD
LG