رسائی کے لنکس

یہ دھماکے ایک پرائمری اسکول کے قریب ہوئے، جو اُن مضافات میں واقع ہے جہاں علوی اکثریت آباد ہے، جس کا تعلق شیعہ مسلک سے ہے

شام کے وسطی شہر، حمص میں بدھ کے روز دو کار بم دھماکے ہوئے، جِن کے نتیجے میں کم از کم 32 افراد، جِن میں زیادہ تر بچے شامل تھے، جب کہ بیسیوں زخمی ہوئے۔

یہ دھماکے ایک پرائمری اسکول کے قریب ہوئے، جو اُن مضافات میں واقع ہے جہاں علوی اکثریت آباد ہے، جس کا تعلق شیعہ مسلک سے ہے۔ صدر بشارالاسد کا تعلق بھی اِسی مسلک سے ہے۔

شام کے سرکاری ابلاغ عامہ نے اطلاع دی ہے کہ بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد 10 ہے۔

’سیریئن آبزرویٹری فور ہیومن رائٹس‘ نے اطلاع دی ہے کہ ہلاک ہونے والے چھوٹے بچوں کی تعداد کم از کم 40 ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہوا آیا یہ حملے کس کی کارستانی ہیں۔

ایک وقت تھا کہ حمص کو مسٹر اسد کے خلاف جاری تحریک کا ’انقلابی گڑھ‘ خیال کیا جاتا تھا۔

دو برس تک بمباری اور محاصرے کے بعد، اب اس شہر کا زیادہ تر حصہ سرکاری کنٹرول میں آچکا ہے۔


XS
SM
MD
LG