رسائی کے لنکس

شام: باغیوں کے زیر تسلط علاقے پر سرکاری قبضہ بحال


فائل فوٹو

فائل فوٹو

سرکاری فورسز ایک عرصے سے یبرود نامی علاقے میں کارروائیاں کرتی آرہی تھیں جس کا مقصد سرحد پار سے باغیوں کی رسد کو زک پہنچانا تھا۔

شام کی فوجوں نے لبنان کی سرحد کے قریب باغیوں کے زیر تسلط ایک اہم علاقے کا قبضہ حاصل کر لیا ہے۔

سرکاری میڈیا اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ شام کے فوجیوں نے اتوار کو یبرود نامی علاقے کا کنٹرول حاصل کیا۔

یہ علاقہ باغیوں کا آخری مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے قلمون نامی خطے میں واقع ہے۔

سرکاری فورسز ایک عرصے سے یہاں کارروائیاں کرتی آرہی تھیں جس کا مقصد سرحد پار سے باغیوں کی رسد کو زک پہنچانا تھا۔

سرکاری میڈیا نے خبر دی ہے کہ شام کی فورسز یبرود میں باغیوں کی طرف سے نصب دھماکا خیز آلات کو ہٹانے کا کام کر رہی ہیں۔

شام میں تین سال سے جاری لڑائی میں اب تک ایک لاکھ چالیس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ 25 لاکھ سے زائد لوگ شام سے نقل مکانی کرکے دوسرے ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔

دریں اثناء انسانی حقوق پر نظر رکھنی والی تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ القاعدہ سے منسلک گروپ النصرہ فرنٹ کا ایک اہم کمانڈر یبرود کے علاقے میں جمعہ کو ہونے والی لڑائی میں مارا گیا۔

آبزرویٹری کے مطابق ابو اعظم الکویتی قلمون کے خطے میں النصرہ کا رہنما تھا اور اس نے قیدیوں کے تبادلے کے لیے مذاکرات میں مدد دی تھی۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں باغیوں نے ایک درجن سے زائد عیسائی راہباؤں کو رہا کیا تھا۔
XS
SM
MD
LG