رسائی کے لنکس

شام: حزب اختلاف کا سوشل میڈیا کا استعمال

  • ہنری رجویل

عرب دنیا میں جتنی بھی عوامی تحریکیں اٹھی ہیں، ان میں عالمی میڈیا کے لیے شام کی تحریک کے بارے میں خبریں دینا مشکل ترین ثابت ہوا ہے۔ اس لیے، حزبِ اختلاف کے گروپوں کو یہ بتانے کے لیے کہ شام کے اندر کیا ہو رہا ہے، بڑی حد تک سوشل میڈیا، جیسے فیس بک، یو ٹیوب اورٹوئٹر پر انحصار کرنا پڑا ہے۔

ایک دھندلے سے تھرتھراتے ہوئے وڈیو میں جو بظاہر سیل فون سے لیا گیا ہے، دکھایا گیا ہے کہ حمص کے شہر پر گولے برس رہے ہیں۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران اس قسم کے سینکڑوں بلکہ ہزاروں وڈیو یو ٹیوب جیسی سوشل میڈیا ویب سائٹس پر اپ لوڈ کیے گئے ہیں۔

شام میں غیر ملکی صحافیوں کی تعداد بہت محدود ہے۔ اس لیے وہاں کیا ہو رہا ہے اس سے باہر کی دنیا کو باخبر رکھنے کا ایک اہم ترین ذریعہ سوشل میڈیا ہے۔

سرحد کے اس پار لبنان کے قصبے وادی خالد میں عابدی حکیم اجبوری شامی پناہ گزینوں کے کیمپ میں بیٹھے دوسرے پناہ گزینوں سے باتیں کر رہے ہیں۔ وہ بتا رہے ہیں کہ شام میں ان کی کپڑے کی دوکان تھی اور زندگی اچھی گزر رہی تھی۔

جب عرب موسمِ بہار کا غلغلہ ہوا، تو وہ انٹرنیٹ پر آئے اور انھوں نے دیکھا کہ بہت سے لوگ آن لائن موجود ہیں اور مصر اور تیونس جیسی احتجاجی تحریکیں شروع کرنا چاہتے ہیں۔ حکیم کا کہنا ہے کہ ’’سب سے پہلے ہم نے یو ٹیوب، فیس بک اورٹوئٹر کو استعمال کرنا شروع کیا تاکہ ہم نوجوانوں اور سرگرم کارکنوں کے ایک گروپ کو ایک دوسرے کے قریب لائیں اور پھر ہم نے اس گروپ کو منظم کرنا شروع کیا۔ تلکالخ میں جہاں میرا گھر ہے، ہم نے دیواروں پر حکومت کے خلاف نعرے لکھنا شروع کر دیے۔‘‘

حکیم کہتے ہیں کہ جب احتجاجی مظاہروں میں شدت آ گئی، تو انہیں پکڑ لیا گیا اور اذیتیں دی گئیں۔ ہزاروں دوسرے شامیوں کی طرح، وہ بھاگ کر لبنان پہنچ گئے۔ یہاں سے وہ مسلسل حکومت مخالف تحریک کو آن لائن منظم کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ’’تلکالخ میں جہاں میرا گھر ہے، بہت سے لوگ ایسے تھے جنہیں میں پہلے بالکل نہیں جانتا تھا لیکن جو حزبِ اختلاف کی تحریک میں شامل ہو چکے تھے، یا اس تحریک سے ہمدردی رکھتے تھے۔ اگر سوشل میڈیا نہ ہوتا، تو ہم متحد نہیں ہو سکتے تھے۔‘‘

سرگرم کارکن آن لائن یہ مشورے دے رہے ہیں کہ لعشوں اور اذیتوں کا شکار ہونے والوں کی وڈیوز کیسے بنائی جائیں تاکہ انہیں مستقبل میں مقدموں میں استعمال کیا جا سکے۔

اسکائپ کے ذریعے وائس آف امریکہ کو بھیجے جانے والے ایک پیغام میں مشورہ دیا گیا ہے کہ گولی کے جسم میں داخل ہونے اور باہر آنے والے مقام، دونوں کی فلم بنائی جائے تا کہ یہ تعین کیا جا سکے کہ کس قسم کا ہتھیار استعمال کیا گیا تھا، اور گولی چلائے جانے کے وقت کے ثبوت کے طور پر، اس روز کے اخبار کو بھی شامل کر لیا جائے۔

برطانیہ کے ایک کالم نگار اور بلاگر، ایمانیولے ایسپوستی اس بات کا تجزیہ کرتے رہے ہیں کہ غیر ملکی عوامی میڈیا، اس قسم کے وڈیوز کا کس طرح استعمال کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ یہ وڈیو کہاں سے آیا ہے، یہ کس کی ایما پر بنایا گیا ہے اور کیوں۔ کیوں کہ وہاں کوئی انسان موجود نہیں ہوتا، کوئی رپورٹر نہیں ہوتا جو یہ کہہ سکے کہ ہاں، میں نے اپنے کمرے کی کھڑکی سے دیکھا اور یہ واقعہ میری نظروں کے سامنے ہوا۔‘‘

شام میں ایک انتہائی سرگرم کارکن رمی السید تھے۔ وہ ویب سائٹ بامبیوزر کو باہر کی دنیا کو حمص کی بمباری کے لائیو مناظر دکھانے کے لیے استعمال کیا کرتے تھے۔ ان کے ساتھ کام کرنے والے سرگرم کارکن کہتے ہیں کہ وہ ایک گولی کا نشانہ بن گئے ۔

میڈیا کے تجزیہ کار کہتے ہیں کہ حال ہی میں حمص میں دو غیر ملکی صحافیوں کی ہلاکت کے بعد، دنیا شام میں ہونے والے تشدد کو ریکارڈ کرنے کے لیے شام کے شہریوں پر انحصار کرنے پر اور زیادہ مجبور ہو گئی ہے۔

XS
SM
MD
LG