رسائی کے لنکس

البوطی شام کے الاسد خاندان کے طویل عرصے سے حامی رہے ہیں اور صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف باغیوں کی لڑائی پر وہ تنقید کرتے رہے ہیں۔

شام میں میڈیا کے مطابق دمشق کی ایک تاریخی مسجد میں خودکش بم دھماکے سے حکومت کے حامی مذہبی رہنماء محمد البوطی سمیت 42 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

اس حملے میں 80 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے۔

جمعرات کو ہونے والے حملے کی تاحال کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ لیکن اپوزیشن رہنما احمد معاذ الخطیب نے فرانسیسی خبررساں ادارے کو بتایا کہ البوطی کو ہلاک کرنا ایک جرم ہے اور اسے مسترد کرتے ہیں۔

البوطی شام کے الاسد خاندان کے طویل عرصے سے حامی رہے ہیں اور صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف باغیوں کی لڑائی پر وہ تنقید کرتے رہے ہیں۔

اس سے قبل جمعرات کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے شامی حکومت کے اُن الزامات کی تحقیقات کا حکم دیا جن میں کہا گیا تھا کہ باغیوں نے راکٹ حملے میں کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔

بان کی مون نے شام کے تمام فریقوں سے کہا ہے کہ وہ تحقیق کرنے والوں سے مکمل تعاون کریں۔

باغی اور شامی حکومت ایک دوسرے پر منگل کو حلب میں ہونے والے راکٹ حملے میں کیمائی ہتھیاروں کے استعمال کا الزام لگاتے ہیں۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ واشنگٹن خود بھی اس معاملے کی تحقیقات کرے گا۔
XS
SM
MD
LG