رسائی کے لنکس

شام کے بحران پر جنیوا میں مذاکرات، باغیوں کے حملے جاری


باغیوں کے زیرِ قبضہ آنے والے تفتناز کے فوجی ہوائی اڈے کا ایک منظر

باغیوں کے زیرِ قبضہ آنے والے تفتناز کے فوجی ہوائی اڈے کا ایک منظر

بند دروازے کے پیچھے ہونے والی اس ملاقات کے بارے میں کسی بھی رہنما نے کچھ بتانے سے گریز کیا ہے۔

شام کے لیے عالمی برادری کے خصوصی ایلچی لخدار براہیمی جمعے کو جنیوا میں شامی بحران پر امریکہ اور روس کے سینئر سفارت کاروں کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں جب کہ شام میں سرکاری تنصیبات پر باغیوں کے حملے جاری ہیں۔

شام کے لیے اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے کے مشترکہ ایلچی براہیمی اور روس کے نائب وزیرِ خارجہ میخائل بوگدانوف اور امریکی نائب وزیرِ خارجہ ولیم برنز کے درمیان جمعے کو سوئٹزرلینڈ میں قائم اقوامِ متحدہ کے یورپی دفاتر میں ملاقات ہورہی ہے۔

بند دروازے کے پیچھے ہونے والی اس ملاقات کے بارے میں کسی بھی رہنما نے کچھ بتانے سے گریز کیا ہے۔

جمعے ہی کو لندن میں قائم شامی حزبِ اختلاف کی حامی ایک تنظیم نے دعویٰ کاھہے کہ شامی باغیوں نے کئی روز کی لڑائی کے بعد ملک کے شمالی حصے میں قائم 'تفتناز' کے فوجی ہوائی اڈے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

'سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس' کے اس دعویٰ کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے کیوں کہ شامی حکومت نے ملک میں غیر ملکی صحافیوں کے داخلے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

'آبزرویٹری' نے انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں شامی فوجیوں کو ہوائی اڈے سے فرار ہوتے دکھایا گیا ہے جب کہ کئی مقامات سے دھواں اٹھ رہا ہے۔

تنظیم کے مطابق باغیوں کے قبضے کے کئی گھنٹوں بعد شامی افواج کے جنگی طیاروں نے ہوائی اڈے پر بمباری کی ہے۔

'آبزرویٹری' کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ شام میں گزشتہ 22 ماہ سے جاری محاذ آرائی کے دوران میں باغیوں کے قبضے میں آنے والا یہ سب سے بڑا ہوائی اڈہ ہے۔
XS
SM
MD
LG