رسائی کے لنکس

سفیر سمنتھا پاور نے کہا ہے کہ سفارت کار اُس وقت جذبات پر قابو نہ رکھ سکے جب شرکا نے سارمین نامی گاؤں کے بچوں کے بارے میں وڈیو دیکھی، جن کی کلورین گیس کے نتیجے میں آواز بند ہوچکی تھی اور الٹیاں کر رہے تھے، ایسے میں جب ڈاکٹر اُنھیں طبی امداد دے رہے تھے

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جمعرات کے روز ایک ڈاکٹر کی دل دہلانے والی گواہی سنی، جنھوں نے گذشتہ ماہ شام میں ہونے والے کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے بعد زخمیوں کے لیے امدادی کام میں حصہ لیا۔

بند کمرے میں ہونےوالے اجلاس کے بعد، امریکی سفیر سمنتھا پاور نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ، ’میں نے دیکھا کہ ایوان میں ہر آنکھ نم تھی‘۔

اُنھوں نے کہا کہ سفارت کار اُس وقت جذبات پر قابو نہ رکھ سکے جب شرکا نے سارمین نامی گاؤں کے بچوں کے بارے میں وڈیو دیکھی، جن کی کلورین گیس کے نتیجے میں آواز بند ہوچکی تھی اور الٹیاں کر رہے تھے، ایسے میں جب ڈاکٹروں کی طرف سے اُنھیں طبی امداد دی جا رہی تھی۔

پاور نے کہا کہ کونسل نے اس حملے کے نتیجے میں متاثر ہونے والے ایک پورے خاندان کی اندوہناک کہانی سنی۔

انھوں نے بتایا کہ ’اس ساری شہادت سے پتا چلتا ہے کہ یہ کیمیکل ہتھیار ہیلی کاپٹر پر لائے گئے‘، اور اِس بات کی نشاندہی کی کہ ’صرف شام کی فوج کے پاس ہی ہیلی کاپٹر ہیں‘۔

بقول اُن کے، لیکن ہمیں اس طرح سے پیش رفت کرنی ہے جس سے کونسل کے تمام ارکان پر یہ بات واضح ہوجائے کہ جن لوگوں نے یہ حملے کیے اُن کا احتساب کیا جانا چاہیئے۔

صدر بشار الاسد کی حکومت نے کہا ہے کہ اس نے کبھی سولینز پر کیمیائی ہتھیار استعمال نہیں کیے، نہی وہ ایسا کرے گا۔

رپورٹ میں اُن حملوں کا ذمہ دار ’دہشت گردوں‘ کو قرار دیا گیا ہے۔ وہ یہ لفظ مسٹر اسد کا تختہ الٹنے کے لیے سرگرم باغیوں کے بارے میں استعمال کیا کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ شام میں کیمائی ہتھیار استعمال ہوئے ہیں۔ تاہم، کسی فریق کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔

ستمبر 2013ء میں دمشق کے مشرقی غوطہ کے مضافات میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں سارین گیس کے حملے میں، جس میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے، سلامتی کونسل نے ایک قرارداد منظور کی جس میں شام سے مطالبہ کیا گیا کہ کیمیائی ہتھیاروں کی اپنی تنصیبات کو بند کرے اور اس کا ذخیرہ تباہ کردیا جائے۔

XS
SM
MD
LG