رسائی کے لنکس

ہلالِ احمر کے جائزے سے پتا چلا ہے کہ بابِ امر کے بیشتر رہائشی ان نزدیکی علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں جہاں امدادی اہلکاروں کی جانب سے خوراک اور ادویات تقسیم کی گئی ہیں

اقوامِ متحدہ کے انسانی ہمدردی کے شعبے کی سربراہ ویلری آموس نے حمص کے علاقے بابِ امر کا دورہ کیا ہے جس پر قابض باغی سرکاری افواج کی جانب سے علاقے کے ایک ماہ طویل محاصرے اور بمباری کے بعد گزشتہ ہفتے پسپا ہوگئے تھے۔

علاقے میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف 'انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس' کے جنیوا میں موجود ترجمان نے 'وائس آف امریکہ' کو بتایا ہے کہ مس آموس نے بدھ کو شام کی عرب ہلاِلِ احمر کی ایک ٹیم کے ہمراہ وسطی شہر حمص کے جنگ زدہ علاقے کا 45 منٹ تک دورہ کیا۔

ترجمان کے مطابق ہلالِ احمر کی ٹیم کے جائزے سے پتا چلا ہے کہ بابِ امر کے بیشتر رہائشی ان نزدیکی علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں جہاں امدادی اہلکاروں کی جانب سے حالیہ دنوں میں خوراک اور ادویات تقسیم کی گئی ہیں۔

شامی افواج نے بابِ امر کے محاصرے اور اس پر بمباری کا آغاز فروری میں کیا تھا اور اس کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے کہ شامی حکومت نے کسی غیر ملکی عہدیدار یا امدادی اہلکاروں کو علاقے کے دورے کی اجازت دی ہے۔

شامی حزبِ اختلاف کے کارکنوں اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ شامی افواج کی ایک ماہ طویل کاروائی کے نتیجے میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں جب کہ علاقے میں خوراک، پانی اور ادویات کی شدید قلت ہے۔

امدادی اہلکار جمعے سے ایک امدادی قافلہ بابِ امر روانہ کرنے کی اجازت ملنے کا انتظار کر رہے ہیں لیکن شامی حکومت نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر رضاکاروں کو آگے جانے سے روک رکھا ہے۔

حمص جانے سے قبل بدھ کو اقوامِ متحدہ کی عہدیدار نے اپنے تین روزہ دورہ شام کے آغاز پر دارالحکومت دمشق میں شام کے وزیرِ خارجہ ولید المعلم سے ملاقات کی تھی۔

ویلری آموس کے دورے کا مقصد شامی حکومت کی جانب سے مخالفین کے خلاف گزشتہ ایک برس سے جاری پرتشدد کاروائیوں کا نشانہ بننے والی آبادیوں کی مشکلات کا جائزہ لینا ہے۔

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'صنعا' کے مطابق وزیرِ خارجہ المعلم نے عالمی ادارے کی عہدیدار کو بتایا کہ ان کی حکومت مغربی اور عرب ممالک کی پابندیوں کے بوجھ کے باوجود اپنے شہریوں کو خوراک اور ادویات فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG