رسائی کے لنکس

سیکرٹری جنرل بن کی مون کے پیر کے روز کہاہے کہ یہ شام کی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے مبصروں کو فائربندی کی نگرانی کے لیے نقل و حرکت کی مکمل آزادی فراہم کرے

اقوا م متحدہ کے امن مشن کے ایک ہریاول دستہ شام میں کمزور فائربندی کی نگرانی کا کام شروع کردیا ہے، جب کہ انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں کا کہناہے کہ سرکاری فوج کے دستے حزب اختلاف کے مضبوط گڑھ کے مضافات میں باغیوں پر گولہ باری جاری رکھے ہوئے ہیں اور انہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں

شام میں انسانی حقوق سے متعلق برطانیہ میں قائم ایک تنظیم نے پیر کو وائس آف امریکہ کو بتایا کہ سرکاری فورسز نے وسطی شہر حما میں گولہ باری کررہی ہیں اور انہوں نے 14 افراد کو ہلاک کردیا ہے۔

مراکش کے کرنل احمد ہمکی کی قیادت میں اقوام متحدہ کی ٹیم دارالحکومت دمشق میں پہنچنے کے کئی گھنٹوں بعد بھی ملک میں اور بھی کئی مقامات پر جھڑپیں جاری تھیں۔

بین الاقوامی سفارت کار کوفی عنان کے ایک ترجمان احمد فوزی نے کہاہے کہ اقوام متحدہ کا مشن اپنا ہیڈکوارٹرز اور حکومت اور حزب اختلاف کی فورسز کے ساتھ رابطے قائم کرنے کے بعد اپنا کام شروع کردے گا۔

انہوں نے کہا کہ دونوں فریق اقوام متحدہ کے مبصرین کے کردار سے بخوبی آگاہ ہیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ توقع ہے کہ مزید 25 مبصر چند روز کے اندر شام پہنچ جائیں گے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بن کی مون کے پیر کے روز کہاہے کہ یہ شام کی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے مبصروں کو فائربندی کی نگرانی کے لیے نقل و حرکت کی مکمل آزادی فراہم کرے۔

مسٹر بن کی مون نے فائربندی کے معاہدے کو انتہائی کمزور قرار دیتے ہوئے کہا کہ شام کے حکام کو پابندی پر لازمی طورپر عمل کرنا چاہیے اور حزب اختلاف کی فورسز کو ان سے مکمل طورپر تعاون کرنا چاہیے۔

XS
SM
MD
LG