رسائی کے لنکس

شام: عیدالضحٰی کی تعطیلات میں جنگ بندی پر ’رضامندی‘


خصوصی ایلچی براہیمی شام کے نائب وزیر خارجہ کے ہمراہ

خصوصی ایلچی براہیمی شام کے نائب وزیر خارجہ کے ہمراہ

بین الاقوامی سفیر لخدار براہیمی نے کہا ہے کہ شامی حکومت اور حزب مخالف کے بعض گروپ عیدالضحیٰ کی تعطیلات کے دوران جنگ بندی پر رضامند ہو گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے بین الاقوامی اُمور کے سفیر لخدار براہیمی نے کہا ہے کہ شام کی حکومت اور حزب مخالف کے بعض گروپ جمعرات سے شروع ہونے والی عیدالضحیٰ کی تعطیلات کے دوران جنگ بندی پر رضا مند ہو گئے ہیں۔

اقوام متحدہ اور عرب لیگ کی طرف سے شام کے لیے خصوصی لخدار ایلچی براہیمی نے بدھ کو قاہرہ میں صحافیوں کو بتایا کہ کئی دنوں تک ہونے والی مجوزہ جنگ بندی سیاسی عمل کے حصے کے طور پر زیادہ عرصے تک کے لیے کسی معاہدے کی طرف بڑھ سکتی ہے۔

شام کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ تاحال جنگ بندی کا جائزہ لے رہے ہیں اور اس بارے میں حتمی فیصلہ جمعرات کو کیا جائے گا۔

براہیمی بدھ کو بعد ازاں اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کو صدر بشار الاسد اور خطے کے دیگر رہنماؤں سے ہونے والی حالیہ بات چیت سے آگاہ کریں گے۔

براہیمی کے پیش رو کوفی عنان کی طرف سے مرتب کردہ جنگ بندی کا معاہدہ اپریل میں نافذ العمل ہونے کے کچھ ہی عرصہ بعد ناکام ہو گیا تھا۔

دریں اثناء روس کے ایک اعلیٰ فوجی عہدیدار نے کہا ہے کہ شام کے باغیوں نے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل حاصل کر لیے ہیں جن میں ایک امریکی ساختہ ماڈل کی طرز میزائل بھی شامل ہے۔

روس کی انٹرفیکس نیوز ایجنسی نے بدھ کو جنرل اسٹاف کے چیف جنرل نکولائی ماکارو کے حوالے سے خبر دی ہے کہ کندھے پر رکھ کر میزائل داغنے کا یہ نظام مختلف ملکوں میں بنایا جاتا تھا لیکن باغیوں کو یہ کس نے مہیا کیے ہیں اس کا تعین کرنا ابھی باقی ہے۔

روس اور چین تین مرتبہ اقوام متحدہ کی طرف سے شام پر پابندیاں عائد کرنے کی قراردادوں کو ویٹو کر چکے ہیں۔

متعدد مغربی ملکوں نے باغیوں کو اسلحہ فراہم کرنے کی مزاحمت کی ہے تاہم انھیں غیر مہلک امداد فراہم کی ہے ۔ روس شام کی حکومت کو ہتھیار فراہم کرنے والا ایک بڑا ملک رہا ہے۔
XS
SM
MD
LG