رسائی کے لنکس

شامی حزبِ اختلاف کے اتحاد 'سیرین نیشنل کونسل' کے ترجمان فواذ ذکری نے امید ظاہر کی ہے کہ جنگ بندی سے ملک میں گزشتہ کئی ماہ سے جاری تشدد کا سلسلہ بالآخر رک جائے گا

شام میں حکومت کی جانب سے مخالفین کے خلاف جاری کاروائیاں روکے جانے کے چند گھنٹوں بعد ہی حزبِ اختلاف کے رہنمائوں نے عوام سے احتجاجی مظاہرے کرنے کی اپیل کردی ہے۔

شامی حزبِ اختلاف کے اتحاد 'سیرین نیشنل کونسل' کے ترجمان فواذ ذکری نے امید ظاہر کی ہے کہ جنگ بندی سے ملک میں گزشتہ کئی ماہ سے جاری تشدد کا سلسلہ بالآخر رک جائے گالیکن ان کے بقول مظاہرین کے لیے اپنے مطالبات کے لیے آواز بلند کرنے کا یہی وقت ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی حزبِ اختلاف کی حامی تنظیم 'سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس' کے نمائندوں نے 'وائس آف امریکہ' کو بتایا ہے کہ شامی حکومت نے جنگ بندی کی ڈیڈلائن کی پاسداری کرتے ہوئے جمعرات کی صبح چھ بجےکاروائیوں کا سلسلہ روک دیا تھا جس کے بعد سے اب تک تشدد کے کسی واقعے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

شامی حکومت نے یہ جنگ بندی شام کے لیے اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی کوفی عنان کے پیش کردہ چھ نکاتی امن منصوبے کے تحت کی ہے جس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ کے اس اہم ملک میں گزشتہ 13 ماہ سے جاری پرتشدد احتجاجی تحریک روکنا ہے۔

شامی حکومت نے امن معاہدے سے اتفاق کرتے ہوئے پرتشدد کاروائیاں روکنے کے لیے معاہدے میں تجویز کردہ ڈیڈلائن پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی تھی۔ معاہدے کے تحت شامی حکومت نے شہری آبادیوں سے فوجی دستوں کا انخلا بھی شروع کر رکھا ہے۔

لیکن ڈیڈلائن سے ایک روز قبل بدھ کو صدر بشارالاسد کی حکومت نے ایک بیان میں کہا تھا کہ عام شہریوں یا فوجیوں پر مسلح دہشت گردوں کے کسی بھی حملے کا جواب دینے کے لیے شامی فوجی دستے تیار ہیں۔

شامی حزبِ اختلاف نے جنگ بندی کی پائیداری پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ واضح رہے کہ امن معاہدے میں حزبِ اختلاف کے جنگجووں سے بھی لڑائی روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG