رسائی کے لنکس

شام: حکمراں بعث پارٹی کےکم از کم 228ارکان مستعفی


شام: حکمراں بعث پارٹی کےکم از کم 228ارکان مستعفی

شام: حکمراں بعث پارٹی کےکم از کم 228ارکان مستعفی

یورپی یونین کے پانچ ممالک (فرانس، برطانیہ، جرمنی، اٹلی اور اسپین)نے مسٹر اسد کی حکومت سے پُر تشدد کارروائی روکنے کا مشترکہ مطالبہ کرتے ہوئے بدھ کے روزشام سے اپنے سفیروں کو واپس بلالیا

شام کی حکمراں بعث پارٹی کے کم از کم 228ارکان نےصدربشارالاسد کی طرف سےجمہوریت پسند مظاہرین کےخلاف پُرتشدد کارروائی کرنے پراحتجاج کرتے ہوئے استعفیٰ پیش کردیا ہے۔

درعا صوبے سے تعلق رکھنے والے 200سےزائد پارٹی ارکان کےایک گروپ نےبدھ کے روز استعفیٰ دیا جو کہ علاقائی شورش کےاِس مرکز میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے جاری خونریز حملے پر اظہارِ ناراضگی ہے۔

اِس سے قبل، شورش زدہ ساحلی شہر بنیاس سے تعلق رکھنے والے پارٹی کے کم ازکم 28ارکان نے اِس بات کا الزام دیتے ہوئے استعفیٰ دیا کہ فوجیوں اورحکومت کےحامی جنگجوؤں نےعزت دار شہریوں کے ساتھ ساتھ گھروں، مساجد اور گرجا گھروں پر فائر کھول دیا۔
ایک ماہ قبل بعث پارٹی سے مستعفی ہونے کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا، جس نے1963ء کے انقلاب سےلے کرآج تک شام پرحکمرانی کی ہے۔
دمشق کے مضافات دماع اور بنیاس میں بدھ کو بھی حکومتی فوجیوں کی تعیناتی جاری رہی۔ درعا میں بھی فوج کی مزید کمک پہنچ چکی ہے، جہاں بجلی، پانی اور پیغام رسانی کے ذرائع منقطع ہیں۔
دریں اثنا، تشدد کے خاتمے کے لیے کئی محاذوں پر سفارتی کوششیں جاری ہیں۔

یورپی یونین کے پانچ ممالک (فرانس، برطانیہ، جرمنی، اٹلی اور اسپین)نے مسٹر اسد کی حکومت سے پُر تشدد کارروائی روکنے کا مشترکہ مطالبہ کرتے ہوئے بدھ کے روزشام سے اپنے سفیروں کو واپس بلالیا۔ یورپی یونین کے عہدے دار شام پر معاشی تعزیرات عائد کرنے پر بھی غور کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے جمعے کے دِن شام پر ایک خصوصی اجلاس بلانے کا اعلان کیا ہے۔

لیکن مسٹراسد پر دباؤ قائم رکھنے کی مغربی ممالک کی کوششوں کو اُس وقت ایک دھچکا لگا جب بدھ کے روزاقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کےارکان نے احتجاجی مظاہرین کےخلاف تشدد اپنانے پر شام کے خلاف مذمتی بیان جاری کرنے پرمتفق ہونے میں ناکام رہے۔ روس، چین اور لبنان کی طرف سے مزاحمت سامنے آئی۔

XS
SM
MD
LG