رسائی کے لنکس

شام میں خونریزی رکوانا دنیا کی ’ اخلاقی ذمہ داری‘ ہے: بان کی مون


شام میں خونریزی رکوانا دنیا کی ’ اخلاقی ذمہ داری‘ ہے: بان کی مون

شام میں خونریزی رکوانا دنیا کی ’ اخلاقی ذمہ داری‘ ہے: بان کی مون

سکریٹری جنرل تشدد کے واقعات کو ناقابلِ قبول سمجھتے ہیں اور اُنھیں اِس بات پر افسوس ہے کہ سلامتی کونسل خونریزی بند کرانے کے لیےسمجھوتے پر رضامند نہیں ہوسکی: ترجمان اقوام متحدہ

ایسے میں جب ایک روز قبل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل یورپی ملکوں کی طرف سے شام میں تشدد روکنےسےمتعلق ایک قرارداد کا مسودہ منظورکرنےمیں ناکام رہی، اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون کا کہنا ہے کہ شام میں مزید خون ریزی رکنواے کے لیے بین الاقوامی برادری پر ایک ’اخلاقی ذمہ داری‘ عائد ہوتی ہے۔

بدھ کو اُن کے ایک ترجمان نے کہا کہ سکریٹری جنرل تشدد کےواقعات کو ناقابلِ قبول سمجھتے ہیں اور اُنھیں اِس بات پر افسوس ہے کہ سلامتی کونسل خونریزی بند کرانے کے لیےسمجھوتے پر رضامند نہیں ہوسکی۔

روس اور چین نے إِس مسودہٴ قرارداد کو ویٹو کردیا جسےمنگل کے روز فرانس، برطانیہ، جرمنی اور پرتگال نے تیارکیا تھا۔ ویٹو پرامریکہ اوریورپی ممالک نے اپنی برہمی کا اظہارکیا۔ قرارداد میں شام کے خلاف ممکنہ تعزیرات کا اُسی صورت میں حوالہ دیا گیا تھا کہ شامی لیڈر اپوزیشن کے مظاہرین کی پکڑ دھکڑ جاری رکھتے ہیں۔

دریں اثنا، ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردوان نے بدھ کو جنوبی افریقہ میں اپنی تقریر میں کہا کہ اُن کی حکومت شام پر اپنے طور پر پابندیاں لاگو کرے گی، باوجود اِس بات کے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے ایسی قرارداد منظور نہیں ہو پائی۔

امریکی محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان وکٹوریا نولینڈ نے کہا ہےکہ ووٹ کے نتیجے میں حکومت شام پر دباؤ بڑھانے کے امریکی عزم میں کسی طرح کی کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ اُنھوں نے کہا کہ متعلقہ ممالک کو منگل کے فیصلے اور شام کے حالات پر پڑنے والے اِس کے اثرات کے بارے میں ذمہ داری قبول کرنی پڑے گی ۔

فرانسسی وزیر خارجہ الین ژپے کا کہنا تھا کہ فرانس اور دیگر ممالک نے سخت قرارداد تجویز کرنے کی ہر ممکن کوشش کی تھی ، جس میں سب کی مشترکہ تشویش شامل ہو، جس کے توسط سے، اُن کے بقول، شام کے عوام کا قتل عام بند کرایا جاسکے۔ اُنھوں نے منگل کے روز کہا کہ یہ شام کے عوام اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے لیے ’ افسوس کا دِن‘ ہے۔

تاہم، شام کے صدر کے ایک اعلیٰ مشیر نے فرانس کے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ منگل کا دِن ایک ’تاریخی دِن ‘تھا۔ بثعنہ شعبان نے دمشق میں اے ایف پی کو بتایا کہ روس اور چین ، بقول اُن کے، شام کے عوام کے ساتھ اُٹھ کھڑے ہوئے اور حکومت کو اصلاحات پر عمل درآمدکرنے اور اُنھیں وسعت دینے کے لیے درکار وقت فراہم کیا۔

XS
SM
MD
LG