رسائی کے لنکس

کیمیائی ہتھیاروں کا مبینہ استعمال، امریکہ اقدام کر سکتا ہے


چک ہیگل

چک ہیگل

صدر اوباما نے قومی سلامتی کے اعلیٰ مشیروں سے ملاقات کی ہے، جس میں شام کی طرف سے دمشق کے مضافات میں شہریوں پر کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا معاملہ زیر غور آیا

وائٹ ہاؤس کے ایک عہدے دار کا کہنا ہے کہ مبینہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر اگر امریکہ شام کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کرتا ہے، تو اُس کے پاس کئی طرح کے ’آپشنز‘ موجود ہیں۔

اہل کار نے یہ بیان ہفتے کے دِن جاری کیا، ایسے میں جب صدر براک اوباما نے قومی سلامتی سے متعلق اپنے اعلیٰ مشیروں کے ساتھ ملاقات کی ہے، جس میں حکومت شام کی طرف سے دمشق کے مضافات میں شہریوں پر کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا معاملہ زیر غور آیا۔

اس سے قبل، مسٹر اوباما شام میں کسی طرح کی امریکی فوجی موجودگی کے بارے میں تذبذب کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

تاہم، امریکی وزیر دفاع چَک ہیگل نے کھل کر بات کی ہے کہ امریکہ اپنی بحری افواج خطے میں تعینات کر رہا ہے، اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ صدر شام سے متعلق کوئی بھی فیصلہ کر سکتے ہیں۔

ہیگل نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ مسٹر اوباما نے محکمہ دفاع سے کہا ہے کہ وسیع تر اقدامات کو نظر میں رکھا جائے، اس صورت میں اگر حکومت شام کے خلاف حملے کے بارے میں کوئی فیصلہ ہوتا ہے۔

پینٹاگان کے سربراہ نے یہ بات جمعے کے روز کہی۔

ایک دفاعی عہدے دار نے بتایا ہے کہ امریکی بحریہ بحیرہٴ روم میں اپنی موجودگی میں اضافہ کر رہی ہے، جہاں کروز میزائلوں سے لیس چوتھا جنگی بیڑہ روانہ کیا جارہا ہے۔

امریکہ اور دیگر عالمی طاقتیں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزامات کی چھان بین اقوام متحدہ کی قیادت میں کرانے پر زور دے رہی ہیں، اور ہفتے کے دِن اقوام متحدہ کی ایک اعلیٰ اہل کار دمشق پہنچیں، تاکہ اس مقام تک رسائی حاصل کی جائے جہاں زہر آلود گیس بھرے راکٹ داغے گئے تھے۔

تخفیف اسلحہ کے معاملات سے تعلق رکھنے والے اقوام متحدہ کی اعلیٰ ایلچی، اینجیلا کین اِس واقعے کی تفتیش کی جستجو میں ہیں۔ شام کی حکومت اس بات کی تردید کر رہی ہے کہ اُس کی طرف سے باغیوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا، جو دو برسوں سے صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے لیے صف آرا ہیں۔

متعدد بین الاقوامی سربراہان نے اس شبہے کا اظہار کیا ہے کہ حکومت شام ممنوعہ کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا مرتکب ہوا ہے، تاہم روس نے اسد حکومت کے دفاع میں بیان دیا ہے۔
XS
SM
MD
LG