رسائی کے لنکس

امریکہ: شام پر فضائی نگرانی کی اجازت


امریکی صدر براک اوباما (فائل فوٹو)

امریکی صدر براک اوباما (فائل فوٹو)

پینٹاگون کے عہدیدار اسلامک اسٹیٹ یا داعش کے جنگجوؤں کے خلاف شام و عراق میں فوجی کارروائیوں کی ضروت کا اظہار کرتے آئے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ صدر براک اوباما نے شام پر نگرانی کے لیے پروازوں کی اجازت دے دی ہے۔

ان کے مطابق امریکی صدر نے کسی فوجی کارروائی کی منظوری نہیں دی لیکن شام اور عراق کے کئی علاقوں پر قابض اسلامک اسٹیٹ کے جنگجوؤں سے لڑائی کے لیے امریکہ ایک آپشن پر کام کررہا ہے۔

امریکی طیاروں نے عراق میں شہریوں اور کرد فوجیوں کی مدد کے طور پر عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں جس میں موصل ڈیم کے قریبی علاقے بھی شامل ہیں۔ یہ ڈیم عراق کو بجلی فراہم کرنے کا مرکزی ذریعہ ہے۔

پینٹاگون کے عہدیدار اسلامک اسٹیٹ یا "داعش" کے جنگجوؤں کے خلاف شام و عراق میں فوجی کارروائیوں کی ضروت کا اظہار کرتے آئے ہیں۔

یہ کارروائی شام میں خانہ جنگی کی وجہ سے پیچیدہ ہوگئی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے حکام کا کہنا ہے کہ اوباما نہیں چاہتے کہ امریکہ کی کارروائی کو صدر بشارالاسد کی مدد کے تناظر میں دیکھا جائے۔

شام کے صدر ان ’’دہشت گردوں‘‘ کو ملک میں تین سال سے زائد عرصے سے جاری تصادم کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے پریس سیکرٹری جاش ایرنسٹ کا موجودہ صورتحال سے متعلق کہنا تھا کہ ’’مختلف اطراف سے دباؤ‘‘ ہے۔

’’ہم بشارالاسد کی مدد کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ ہم کئی سالوں سے اسد حکومت کو اقتدار سے علیحدہ ہونے کا کہہ رہے ہیں۔‘‘

شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم نے پیر کو کہا کہ دمشق عالمی برادری بشمول امریکہ اور برطانیہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے لیکن ہر حملہ شامی حکومت کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ہی کیا جائے۔

انھوں نے متنبہ کیا کہ امریکہ کی طرف سے شام کی سرزمین پر یک طرفہ کارروائی کو "جارجیت‘‘ تصور کیا جائے گا اور ایسی کوشش کرنے والے امریکی طیاروں کو مار گرایا جا سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG