رسائی کے لنکس

اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں کا کہناہے کہ شام کی حکومت اور مخالفین کی جانب سے بین الاقوامی سفارت کار کوفی عنان کے امن منصوبے کے تحت جاری تشدد روکنے کے وعدوں کے باوجود وہاں لڑائیوں میں ڈرامائی تیزی آچکی ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم کی جانب سے بدھ کو جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تفتیش کاروں کے مطابق شام کی صورت حال خطرناک ہوچکی ہے اور اس میں تیزی سے بگاڑ پیدا ہورہاہے۔

رپورٹ میں بتایا گیاہےکہ دونوں فریقوں کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے شواہد موجود ہیں لیکن سرکاری سیکیورٹی فورسز خطرناک حد تک خلاف ورزیوں کی مرتکب ہورہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 25 مئی کو حولہ پر کیے گئے حملے میں، جس میں108 افراد ہلاک ہوگئے تھے، زیادہ تر ہلاکتوں کی ذمہ داری سرکاری فورسز پر عائد ہوتی ہے، اور یہ کہ اس واقعہ کی تحقیقات ابھی جاری ہیں۔

اقوام متحدہ کے تفتیش کار پاؤلو پنیرو نے کہاہے کہ ان کی ٹیم کو بالخصوص ان رپورٹس پر خدشات ہیں کہ حکومت مخالف گروپ بچوں کو طبی سامان کی ترسیل اور پیغام رسانی کے استعمال کررہے ہیں جس سے ان کی ہلاکتوں یا زخمی ہونے کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔

شام نے ان تحقیقات پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بقول اس کے ، سیاسی بنیادوں پر چلائی جانے والی انکواری میں شرکت نہیں کرے گا۔

بدھ کے روز تشدد کے واقعات میں شام کے سرکاری میڈیا نے کہاہے کہ بدھ کو ایک مسلح دہشت گرد تنظیم نے حکومت کے حامی ایک ٹیلی ویژن پ سٹیشن پر حملہ کرکے تین افرار کو ہلاک کردیا۔ سانا نیوز ایجنسی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حملہ آوروں نے الاخباریہ سیٹلائٹ چینل کے ہیڈکوارٹرز پر میں دھماکہ خیز مواد نصب کردیاتھا ۔ تاہم یہ نہیں بتایا گیا ہے چینل کے ملازمین حملے میں مارے گئے یا دھماکے کا نشانہ بنے۔

XS
SM
MD
LG