رسائی کے لنکس

شام میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے کہاہے کہ سرکاری فورسز نے ایک ساحلی علاقے میں باغیوں کے ساتھ جاری جھڑپ کے دوسرے دن کم ازکم سات افراد کو ہلاک کردیا ہے۔ اس سے قبل یہ علاقہ پرسکون تھا اور وہاں اقوام متحدہ کے امن کار بھی تعینات نہیں کیے گئے تھے۔

لندن میں قائم شام سے متعلق انسانی حقوق کی تنظیم نے کہاہے کہ فوجی ہیلی کاپٹروں اور ٹینکوں نے بدھ کے روز شمال مغربی صوبے لاذقیہ کے کئی دیہاتوں پر گولے اور بم برسائے۔ رپورٹ میں کہا گیاہے کہ ہلاک ہونے والوں میں متعدد شہری اور کم ازکم ایک باغی شامل ہے۔

منگل کے روز شام کے مختلف حصوں میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران 30 سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے ، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق لاذقیہ سے تھا۔

آزاد ذرائع سے ہلاکتوں کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

دمشق میں موجود اقوام متحدہ کی ایک ترجمان سوزن غوشہ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ شام میں اقوام متحدہ کے نگران مشن کا کوئی اہل کار لاذقیہ میں موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ نے دونوں فریقوں کے نمائندوں سے گفتگو کے بعد علاقے میں جھڑپوں کی تصدیق کر دی ہے اوروہ اس پرخطر علاقے میں اپنا کوئی غیر مسلح نگران نہیں بھیجے گا۔
لیکن غوشہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کا مشن ساحلی شہر طرطوس میں اس ہفتے کے اختتام تک اپنا ایک مرکز قائم کرنے کی منصوبہ بندی کررہاہے۔ اور جتنی جلد ممکن ہوا لاذقیہ میں بھی اپنی ایک کشتی ٹیم روانہ کرے گا۔

XS
SM
MD
LG