رسائی کے لنکس

شام کے سرگرم کارکنوں نے کہاہے کہ جمعے کے روز ملک بھر میں تشدد کے مختلف واقعات میں 17 افراد ہلاک ہوگئے ۔

شام میں انسانی حقوق کی صورت حال سے متعلق لندن میں قائم تنظیم ے سربراہ رامی عبدالرحمن نے وائس آف امریکہ کو ٹیلی فون پر بتایا کہ شمال مغربی شہر ادلب میں ایک پولیس سٹیشن کے سامنے بم دھماکے میں سیکیورٹی فورس کے دواہل کار اور تین عام شہری ہلاک ہوگئے۔ اسی طرح کا ایک اور دھماکہ دمشق کے مضافاتی علاقے میں ہوا جس کی زد میں آکر سیکیورٹی فورس کے مزید دو ارکان مارے گئے۔

انسانی حقوق کی اس تنظیم کا کہناہے کہ جمعے کی نماز کے بعد مظاہرین نے حلب، دمشق اور درعا سمیت ملک کے مختلف شہروں اور قصبوں میں جلوس نکالے ۔

جنوبی شہرمیں دو افراد ہلاک ہوگئے جن میں سے ایک چھپ کر چلائی جانے والی گولی کا نشانہ بنا۔

انسانی حقوق کی تنظیم کا کہناہے کہ سرکاری فورسز نے حمص پر گولہ باری کی جب کہ لاذقیہ میں شدید جھڑپوں میں دوافراد کے ہلاک ہونے کی ااطلاع ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم کا کہناہے کہ دیر الزورقصبے میں بھی ہلاکتوں کے واقعات ہوئے ہیں۔

ادھر جمعے ہی کے روز جنیوا میں ریڈکراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے کہاہے کہ شام میں انسانی حقوق کی صورت انتہائی سنگین ہے۔

امدادی ادارے کے ایک ترجمان نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ شام کے لوگوں کے لیے خوراک اور دواؤں کا حصول دن بدن مشکل ہوتا جارہاہے۔

XS
SM
MD
LG