رسائی کے لنکس

شام کا حزب مخالف کے دو گروپوں کو مذاکرات میں شامل نہ کرنے کا مطالبہ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

'احرار الشام' اور 'آرمی آف اسلام '، شام میں بشار لاسد کی حکومت کو ہٹانے کے لیے برسرپیکار اسلامی گروپوں نے اقوام متحدہ کے تحت جنیوا میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت پر اتفاق کیا تھا۔

شام کی حکومت کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ صدر بشار الاسد کی حکومت دہشت گرد تنظیموں کے فہرست سے دو کے ناموں کو خارج کرنے کے عمل کو "کبھی بھی تسلیم نہیں"کرے گی۔

'احرار الشام' اور 'آرمی آف اسلام '، شام میں بشار لاسد کی حکومت کو ہٹانے کے لیے برسرپیکار اسلامی گروپوں نے اقوام متحدہ کے تحت جنیوا میں ہونے والے امن مذاکرات میں شرکت پر اتفاق کیا ہے۔

تاہم شامی حکومت اور اس کے قریبی اتحادی روس کی نظر میں یہ دونوں دہشت گرد گروپ ہیں اور ان کا موقف ہے کہ انہیں داعش اور القاعدہ سے منسلک مقامی گروہوں کی طرح اس عمل سے باہر رکھا جائے۔

وزیر اطلاعات عمر الزوہب کی طرف سے سرکاری ٹی وی پر یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب مرکزی شامی حزب مخالف کا وفد جنیوا پہنچا۔

اس وفد نے آرمی آف اسلام کے ایک عہدیدار محمد الوش کو اس کا سرکردہ مذاکرات کار مقرر کیا ہے۔

تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا سعوی عرب کی حمایت یافتہ اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی شام کی خانہ جنگی کے سیاسی حل کے لیے ان مذاکرات میں براہ راست طور پر حصہ لے گی یا نہیں۔

حزب مخالف کے وفد کی غیر موجودگی کے باوجود اقوام متحدہ کے عہدیداروں نے جمعہ کو جنیوا میں یہ مزاکرات شروع کر دیئے جو شام میں امن کے قیام کے لیے قبل ازیں 2014 میں اقوام متحدہ کے تحت ہونے والے ناکام مذاکرات کے بعد پہلی کوشش ہے۔

ان مذاکرات کا آغاز شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب اسٹافن ڈی مستیورا اور شامی حکومت کے وفد کے درمیان ملاقات سے ہوا جس کی قیادت شام کے اقوام متحدہ میں سفیر بشار جعفری کر رہے ہیں۔ بعدازاں دی مستیورا نے کہا کہ وہ حزب مخالف کے نمائندوں کے ساتھ اتوار کو ملاقات کریں گے۔

حزب مخالف کی اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی نے قبل ازیں کہا تھا کہ وہ ان مذاکرات کا مکمل طورپ بائیکاٹ کرے گی کیونکہ اس کے بقول شامی حکومت اور روس نے عام شہری علاقوں میں نا تو فضائی کارروائیاں بند کیں اور نا ہی ان علاقوں کا محاصرہ ختم کیا ہے۔ جس کی وجہ سے ان علاقوں کے لیے انسانی امداد کی ترسیل کا عمل بھی رک گیا ہے۔

تاہم جمعہ کو حزب مخالف کے اتحاد نے کہا کہ اسے "یقین دہانی" کروائی گئی ہے جس کی بنا پر اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی نے بالآخر ایک وفد جنیوا بھیجنے کا فیصلہ کیا۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے ایک بیان میں کہا کہ "امریکہ شامی حزب مخالف کی اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی کی طرف سے ان مذاکرات میں شرکت کرنے کے اہم فیصلے کا خیر مقدم کرتا ہے"۔

XS
SM
MD
LG