رسائی کے لنکس

شام میں جنگی جرائم روز کا معمول: اقوام متحدہ


اقوام متحدہ کے عہدے دار حکومتی افواج اور مخالفیں کے مسلح دھڑوں پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ سویلینز تک انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فراہم کی جانے والی امداد کی رسائی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں

امدادی گروپ اور اقوام متحدہ کے اہل کاروں نے حکومت ِشام اور مسلح مخالفین دھڑوں سے التجا کی ہے کہ اُنھیں غیر مسلح شہری آبادی تک رسائی فراہم کی جائے۔

اُن کا کہنا ہے کہ شام کی خانہ جنگ میں جوں جوں تیزی آتی جارہی ہے، انسانیت کے خلاف جرائم کے واقعات ’عام سی بات‘ بن کر رہ گئے ہیں۔

انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے معاون سکریٹری جنرل، اِوان امونووی نے منگل کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان کو بتایا کہ اِس تنازع میں ہر ماہ تقریباً 5000 انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں اور یہ کہ اس بات کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں کہ بچوں کو حراست میں لیا جاتا ہے، اُنھیں اذیت دینے کے بعد پھانسی دے دی جاتی ہے۔

اُنھوںٕ نے کہا کہ یہ واقعات جو قتل ِعام کے زمرے میں آتے ہیں، اُن میں رفتہ رفتہ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے عہدے دار حکومتی افواج اور مخالفیں کے مسلح دھڑوں دونوں پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ سویلینز تک انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فراہم کی جانے والی امداد کی رسائی کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہو رہے ہیں۔

امونووی نے کہا کہ کبھی کبھار، لڑائی سے بھاگ نکلنے کی کوشش کرتے ہوئے سویلینز کو حکومتی چیک پوائنٹس پر روکا جاتا ہے اور بعد میں اُن کی ہلاکت کی خبر ملتی ہے۔

پناہ گزینوں سے متعلق عالمی ادارے کے کمشنر، انٹینیو گتیرس نے منگل کے روز بتایا کہ روانڈا کے قتل عام کے بعد، شام کے پناہ گزینوں کا بحران بدترین نہج پر پہنچ چکا ہے، جس میں اب تک ہمسایہ ملکوں میں تقریباً 18لاکھ افراد نے پناہ لے رکھی ہے۔
XS
SM
MD
LG