رسائی کے لنکس

ناجی دو بچوں کے والد تھے اور ان دنوں وہ داعش کے خلاف ایک اور فلم پر کام کر رہے تھے۔ وہ شام کے ایک جریدے کے مدیر اعلیٰ بھی تھے۔

شدت پسند گروپ داعش کے خلاف دستاویزی فلمیں بنانے کے لیے مشہور ایک شامی فلمساز کو ترکی کے شہر غازی انتیپ میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم، جس کے لیے مقتول ناجی جرف کام کیا کرتے تھے، نے اس قتل کا الزام داعش پر عائد کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ناجی شامی سرحد کے قریب واقع ایک پرہجوم علاقے میں تھے کہ ان کے پاس سے گزرنے والی کار سے فائرنگ کر کے انھیں قتل کر گیا۔

اس واقعے پر نہ تو شدت پسند گروپ اور نہ ہی ترکی کی پولیس نے کوئی بیان دیا ہے۔

ناجی دو بچوں کے والد تھے اور ان دنوں وہ داعش کے خلاف ایک اور فلم پر کام کر رہے تھے۔ وہ شام کے ایک جریدے کے مدیر اعلیٰ بھی تھے۔

ناجی کا تعلق ایک ایوارڈ یافتہ گروپ "رقہ خاموشی سے قتل کیا گیا" سے بھی تھا۔

اس گروپ کے ایک اور رکن ابراہیم عبدالقادر کا اکتوبر میں جنوبی ترکی میں سر قلم کر دیا گیا تھا۔ اس واقعے کے شبہ بھی داعش پر ظاہر کیا جاتا ہے۔

XS
SM
MD
LG