رسائی کے لنکس

حلب: سرکاری فوج کا اسپتال پر حملہ، ڈاکٹر اور عملہ ہلاک و گرفتار


فائل

فائل

دستاویزات کے حوالے سے، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تنازعہ کے آغاز سے اکتوبر 2015 تک طبی سہولتوں اور اسپتالوں پر کل 329 حملے کئے گئے، جس میں687 ڈاکٹر اور دیگر طبی عملہ ہلاک ہوا

شام کی سرکاری فوج نے اگلے مورچوں کے قریب واقع، حلب شہر کے ایک اسپتال پر حملہ کرکے اسے تباہ اور وہاں فرائض انجام دینے والے 95 فیصد ڈاکٹروں کو، جو جائے حفاظت کی تلاش میں تھے، گرفتار یا پھر قتل کر دیا ہے۔

محاذ جنگ پر واقع اس شہر کے اسپتال پر حملے کی اطلاع دیتے ہوئے بدھ کو انسانی حقوق سے متعلق معالجوں نے کہا ہے کہ شامی حکومت کی جانب سے طبی مراکز پر چڑھائیوں کا یہ سنگین ترین واقعہ ہے۔

دستاویزات کے حوالے سے، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تنازعہ کے آغاز سے اکتوبر 2015 تک طبی سہولتوں اور اسپتالوں پر کل 329 حملے کئے گئے، جس میں687 ڈاکٹر اور دیگر طبی عملہ ہلاک ہوا۔ شہر کے اسپتالوں پر ہونے والے 45 حملوں کے نتیجے میں صرف ایک تہائی اسپتال اب کھلے رہ گئے ہیں۔

نیویارک میں انسانی حقوق کے گروپ کا کہنا ہے کہ حلب میں صرف 80 ڈاکٹر رہ گئے ہیں جو لوگوں کو طبی خدمات فراہم کر کر رہے ہیں۔

رپورٹ تحریر کرنے والوں میں شامل شخص، مائیکل ہیسلر کا کہنا ہے کہ شامی حکومت اسپتالوں اور طبی سہولتوں پر حملے کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

انسانی حقوق کے گروپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے جو دستاویزات تیار کی ہیں، جس کے مطابق ماہ اکتوبر کے دوران روس نے کم از کم 10 اسپتالوں اور طبی سہولتوں پر ہوائی حملے کئے، جس کے نتیجے میں ایک طبی عملہ ہلاک ہوا۔ اس دوران 16 اکتوبر کو الحدر اسپتال پر فضائی حملے کے دوران انکوبیٹر میں پڑے نوزائدہ بچوں کو نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔

حلب شہر باغیوں اور سرکاری فوجوں کے درمیان تقسیم ہوکر رہ گیا ہے۔ لڑائی کے آغاز سے ہی شہر کے مغربی حصے پر سرکاری فوجوں کو کنڑول حاصل ہے تو مشرقی حصے میں باغیوں کا قبضہ ہے۔

روس کی حمایت یافتہ شام کی سرکاری فوج شہر کا مکمل کنڑول حاصل کرنے کے لئے باغیوں پر دباؤ بڑھا رہی ہے اور اس ماہ کے اوائل سے ہی جنوبی ٹاون الحدر کو بند کر دیا ہے۔

شام کی پانچ سالہ خانہ جنگی کے دوران اب تک ڈھائی لاکھ شہری ہلاک اور ایک کروڑ 20 لاکھ سے زائد لوگ گھربار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG