رسائی کے لنکس

شام کے کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کا عمل جاری


اقوام متحدہ میں آسٹریلیا کے سفیر گیری کیونلین نے کہا کہ کیمیائی ہتھیار بنانے والی ایک درجن تنصیبات اور اُنھیں رکھنے کے لیے سات ’ہینگرز‘ اور پانچ زیر زمین سرنگوں کو2015 کے وسط کو تک ختم کر دیا جائے گا۔

اقوام متحدہ کی 15 رکنی سلامتی کونسل میں اس ماہ کے لیے صدر نے بدھ کو کہا ہے کہ شام کے کیمیائی ہھتیاروں کو تلف کرنے کا عمل مکمل ہونے کے قریب ہے۔

اقوام متحدہ میں آسٹریلیا کے سفیر گیری کیونلین نے کہا کہ کیمیائی ہتھیار بنانے والی ایک درجن تنصیبات اور اُنھیں رکھنے کے لیے سات ’ہینگرز‘ اور پانچ زیر زمین سرنگوں کو 2015 کے وسط تک ختم کر دیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ 15 ممالک پر مشتمل سیکورٹی کونسل کو زہریلے مواد کی تیاری سے متعلق جن تنصیبات کا معلوم ہوا، اُن کو بھی تباہ کیا جائے گا۔

کیونلین نے کہا کہ زہریلی گیس والے ہتھیاروں اور ان کے بنانے کی صلاحیت کے خاتمے سے متعلق شام کی حکومت کے بیانات کی تصدیق کی ضرورت ہے۔

دمشق نے گزشتہ سال اپنے کیمیائی ہتھیاروں کو تباہ کرنے پر اتفاق کیا تھا، یہ فیصلہ 21 اگست 2013 میں دمشق کے نواحی علاقے میں کیمیائی گیس سارین کے حملے میں سینکڑوں افراد کی ہلاکت کے بعد عالمی سطح پر تنقید کے بعد کیا گیا۔

شام کے کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی سے متعلق واشنگٹن اور روس کے درمیان طے پانے والے ایک معاہدے کے بعد شام کے خلاف کارروائی کا خطرہ ٹل گیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت عالمی تنظیم آرگنائزیشن آف پروہیبیشن آف کیمیکل ویپنز (اور پی سے ڈبلیو) شام کے 1300 ٹن زہریلی گیس والے ہتھیاروں کی تلفی کی نگرانی کر رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG