رسائی کے لنکس

شام کے طول و ارض میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے


شام کے طول و ارض میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے

شام کے طول و ارض میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے

جمعے کے روزشام کےطول وارض میں ہونے والےاحتجاجی مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم چارافراد ہلاک ہوئے۔

دیکھنے والوں نے بتایا ہے کہ احتجاج کو روکنے کے لیے حکومتی افواج نے مظاہرین پر فائر کھول دیا، آنسو گیس کے گولے پھینکے اور ڈنڈے برسائے، جب کہ اِس سے ایک ہی روز قبل مخالفین کے مطالبوں کو پورا کرنے کے لیے حکومت نے اصلاحات کے اقدامات کا اعلان کیا۔
مغربی میڈیا نے خبر دی ہے کہ شامی سکیورٹی اہل کاروں نے دوما میں تین مظاہرین کو ہلاک کردیا، جو کہ دارالحکومت دمشق کےجنوبی حصے میں واقع دیہاتی علاقہ ہے۔

نمازِ جمعہ کےبعد شام کے کم از کم تین شہروں میں بعث پارٹی کی حکمرانی کے خلاف حکومت مخالف ریلیاں نکالی گئیں۔ جنونی علاقے میں واقع درعا کے مقام پر 5000کے قریب افراد جمع ہوئے جو حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران آزادی کا مطالبہ کر رہے تھے۔

حکومت مخالف ریلیوں کے باعث شامی صدر بشار الاسد کے11سالہ دورہٴ اقتدار اور اُن کے خاندان کی طویل حکمرانی کو سخت خطرہ لاحق ہے۔

امریکہ نےسکیورٹی کے نام پر کی جانےوالی کارروائی کی مذمت کی اور مسٹر اسد سے ایک بار پھرمطالبہ کیا کہ بامقصد اصلاح کے لیےاقدامات کیےجائیں۔

جمعرات کےروز مسٹر اسد نے جن اصلاحات کا اعلان کیا تھا ان میں ملک میں نافذ ہنگامی قوانین اٹھانے کے جائزے کے لیے ایک کمیٹی کا قیام بھی شامل ہے۔ شام کے سرکاری خبررساں ادارے ثنا نے کہاہے کہ کمیٹی 25 اپریل تک جائزے کا کام مکمل کرلے گی۔

حالیہ ہفتوں میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ہنگامی قوانین اٹھانے کا مطالبہ سرفہرست رہاہے۔

ثنا نیوز ایجنسی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مسٹر اسد نے درعا اورلاذقیہ کے شہروں میں عام شہریوں اور فوجیوں کی ہلاکتوں کے معاملات کے جائزے کے لیے بھی ایک کمیٹی قائم کرنے کا کہاہے۔ یہ دونوں شہر گذشتہ دو ہفتوں کے دوران حکومت مخالف مظاہروں کا مرکز رہے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم واچ نے کہاہے کہ ملک میں بے چینی کی لہر کے آغاز سے اب تک جھڑپوں میں61 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

جمعرات کے روز امریکہ نے شام میں موجود اپنے باشندوں کومشورہ دیا کہ وہ درعا اور لاذقیہ اور اس کے نزدیکی شہروں اور قصبوں میں جانے سے گریز کریں۔ امریکی وزارت خارجہ نے اپنے شہریوں کو شام کے سفر سے اجنتاب کے لیے بھی کہاہے۔

XS
SM
MD
LG