رسائی کے لنکس

باغیوں کے زیر تسلط قصبے کا قبضہ 'واگزار' کرالیا: شامی فورسز


فائل فوٹو

فائل فوٹو

دریں اثناء ترکی کے وزیراعطم احمد داؤد اغلو کا کہنا ہے کہ حلب میں شامی فورسز کی کارروائیوں کے باعث وہاں سے لگ بھگ 70 ہزار لوگوں نے ان کے ملک کی طرف نقل مکانی کی ہے۔

شام کی سرکاری فورسز نے جنوبی علاقے میں باغیوں کے زیر تسلط قصبے کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

جمعہ کو حزب اللہ کے ٹیلی ویژن "المنار" اور شام کی صورتحال پر نظر رکھنے والی غیر سرکاری تنظیم نے بتایا کہ فورسز نے اپنے حامیوں اور روسی لڑاکا طیاروں کی مدد سے درعا کے قریب واقع عتمان نامی قصبے کا قبضہ بحال کروایا۔

سریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں ممکنہ طور پر روسی لڑاکا طیاروں نے درجنوں فضائی حملے کیے۔

حالیہ دنوں میں شامی فوج اور اس کے حامیوں نے شمالی صوبے حلب میں باغیوں کے خلاف قابل ذکر پیش رفت کی ہے۔

روس نے یہاں جاری فضائی کارروائیوں سے بھی صدر بشارالاسد کی حامی فورسز کو خاصی کامیابیاں ملی ہیں اور اسی بنا پر گزشتہ ہفتے جنیوا میں ہونے والی امن بات چیت بھی متاثر ہوئی۔

مذاکراتی عمل سے شامی حکومت کے نمائندے یہ کہہ کر اٹھ گئے تھے کہ انھوں نے حلب میں باغیوں کے زیر تسلط دو اہم علاقوں کا قبضہ وا گزار کروا لیا ہے۔

پہلے سے مشکلات کے شکار بات چیت کے عمل میں فی الوقت چند روز کا تعطل آ چکا ہے۔

دریں اثناء ترکی کے وزیراعطم احمد داؤد اغلو کا کہنا ہے کہ حلب میں شامی فورسز کی کارروائیوں کے باعث وہاں سے لگ بھگ 70 ہزار لوگوں نے ان کے ملک کی طرف نقل مکانی کی ہے۔

ایک روز قبل ہی اقوام متحدہ کی زیر قیادت منعقد ہونے والے ڈونرز کانفرنس میں شام میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی کاموں کے لیے دس ارب ڈالر فراہم کرنے کے وعدے کیے گئے تھے۔

شام میں گزشتہ پانچ سال سے جاری لڑائی کے باعث لاکھوں افراد ہلاک جب کہ ایک کی آبادی کا ایک بڑا حصہ بے گھر ہو چکا ہے۔

XS
SM
MD
LG