رسائی کے لنکس

شام کی فوج نے چھہ مزید افراد کو ہلاک کر دیا


شام کی فوج نے چھہ مزید افراد کو ہلاک کر دیا

شام کی فوج نے چھہ مزید افراد کو ہلاک کر دیا

شام میں انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ سرکاری افواج نے سیاسی مخالفت کرنے والوں کی پکڑ دھکڑ کے دوران چھہ مزید افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔
پیر کے روز سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نامی تنظیم کا کہنا تھا کہ شمالی صوبے ادلیب کے شہر سارامین میں بد ترین تشدد دیکھنے میں آیا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے تلاشی کے سلسلےمیں چھاپوں کے دوران فائرنگ شروع کر دی جس سے پانچ افراد ہلاک اور کم از کم ساٹھ زخمی ہوئے۔
دارالحکومت دمشق کے نواح میں قارا نامی جگہ پر ایک اور شخص گرفتاری کے دوران مارا گیا۔ انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ لبنان کی سرحد کے قریب گاؤں حیت سے بھی اسی طرح کے چھاپے مارے گئے ہیں۔
تنظیم کا کہنا تھا کہ فوج نے شام کے مرکزی شہر راستان کو بھی گھیرےمیں لیا ہوا ہے۔ گزشتہ پانچ ماہ سے جاری احتجاجی تحریک کے دوران ،یہ شہر صدر بشار ال اسد کے خلاف ہونے والے متعدد مظاہروں کا مرکز رہا ہے۔
پکڑ دھکڑ کی یہ کاروائیاں شام کی جانب سے عرب لیگ کے بیان کے ایک ہی دن بعد شروع ہو گئی ہیں جس میں شام سے اس جان لیوا تشدد کو بند کرنے کا کہا گیا تھا۔ شام بھی بائیس ممبران پر مشتمل عرب لیگ کا ممبر ہے۔ اتوار کے روز عرب لیگ نے شام پر زور دیا تھا کہ پیشتر اس کے کہ بہت دیر ہوجائے وہ اس خون ریزی کو بند کرے۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ مارچ سے لیکر اب تک بائیس سو کے قریب افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ یہ افراد اصلاحات کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ساتھ لوگ صدر بشار ال اسد کے گیارہ سالہ دورِ اقتدار کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

شام کی حکومت نے اس تشدد کا ذمہ دار غیر ملکی سازشی عناصر کے ہاتھوں کھیلنے والے مسلح گینگوں اور دہشت گردوں کو قرار دیا ہے۔

XS
SM
MD
LG