رسائی کے لنکس

باغیوں سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں، شامی حکومت


شامی وزیرِ خارجہ ولید المعلم اپنے روسی ہم منصب سرجئی لاوروف کے ہمراہ

شامی وزیرِ خارجہ ولید المعلم اپنے روسی ہم منصب سرجئی لاوروف کے ہمراہ

شامی حکومت کی جانب سے اپنے خلاف لڑنے والے باغیوں کو براہِ راست مذاکرات کی یہ پہلی اعلانیہ پیش کش ہے۔

شام کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ صدربشار الاسد کے مخالف باغیوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

شامی حکومت کی جانب سے مذاکرات کی یہ پیش کش وزیرِ خارجہ ولید المعلم نے کی ہے جو ان دنوں اپنی حکومت کے قریبی اتحادی روس کے دورے پر ہیں۔

پیر کو ماسکو میں صحافیوں سے گفتگو میں ولید المعلم نے کہا ہے کہ ان کا ملک ان افراد کے ساتھ مکالمہ کرنے کے لیے تیار ہے جو مذاکراتی عمل کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔

شامی حکومت کی جانب سے اپنے خلاف لڑنے والے باغیوں کو براہِ راست مذاکرات کی یہ پہلی اعلانیہ پیش کش ہے۔

لیکن مذاکرات کی پیش کش کے ساتھ ہی شامی وزیرِ خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کا ملک ساتھ ہی ساتھ "دہشت گردی" کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھے گا۔

شامی وزیرِ خارجہ کا یہ بیان روسی خبر رساں ایجنسی 'ایتار تاس' نے جاری کیا ہے لیکن اس کی رپورٹ سے یہ واضح نہیں کہ آیا انہوں نے مذاکرات کے لیے پیشگی شرائط بھی عائد کی ہیں۔

شامی وزیرِ خارجہ کی پیش کش پر حزبِ اختلاف کے رہنما معاذ الخطیب نے اپنے ردِ عمل میں کہا ہے کہ وہ دمشق حکومت سے اس پیش کش کی وضاحت کے خواہاں ہیں۔

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں موجود الخطیب نےصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسد حکومت نے شامی حزبِ اختلاف کے نمائندہ اتحاد سے تاحال رابطہ نہیں کیا ہے اور وہ اس رابطے کےمنتظر ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ حزبِ اختلاف کے رہنمائوں نے امریکہ اور روس کے اپنے طے شدہ دورے ملتوی کردیے ہیں۔
XS
SM
MD
LG