رسائی کے لنکس

شام: پلمیرہ میں سرکاری فوج کے فضائی حملے، 9 افراد ہلاک


فائل

فائل

داعش کے شدت پسندوں نے مئی میں حکومتِ شام سےعالمی ورثے کے اِن مقامات کا قبضہ چھین لیا تھا، اور تب سے پلمیرہ میں قدیمی مقبرے اور روم کے وقت کی عبادت گاہوں کو تباہ کر چکے ہیں۔ شدت پسندوں کا دعویٰ ہے کہ یہ آثار قدیمہ اور عبادت گاہیں بت پرستی ہے

شام کے جیٹ طیاروں نے جمعے کے روز داعش کے زیر تسلط پلمیرہ پر فضائی حملے جاری رکھے۔ جہادی گروہ کی جانب سے مئی میں علاقے کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد اس قدیم شہر پر ہونے والے یہ اب تک کے سخت ترین حملے بتائے جاتے ہے۔

انسانی حقوق سے متعلق سیرئن آبزرویٹری نے کہا ہے کہ شام کے لڑاکا طیاروں نے پلمیرہ پر کم از کم 25فضائی حملے کیے، جس سے ایک روز قبل شام کے جیٹ طیاروں نے رقہ سے شمالی شہر پر شدید فضائی کارروائی کی تھی، جو شہر بھی دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کے قبضے میں ہے۔


سرگرم کارکنوں نے کہا ہے کہ پلمیرہ پر کیے گئے اِن حملوں میں کم از کم نو افراد ہلاک ہوئے، جن میں شہری اور داعش کے لڑاکے شامل ہیں۔

داعش کے شدت پسندوں نے مئی میں حکومتِ شام سےعالمی ورثے کے اِن مقامات کا قبضہ چھین لیا تھا، اور تب سے پلمیرہ میں قدیمی مقبرے اور رومی عہد کی عبادت گاہوں کو مسمار کر چکے ہیں۔

شدت پسندوں کا دعویٰ ہے کہ یہ آثار قدیمہ اور عبادت گاہیں بت پرستی ہے۔ اُنھوں نے عراق میں کئی قدیمی آثاروں کو بارود سے اڑا دیا ہے۔

دریں اثنا، باغی گروپ کا ایک اتحاد جسے ’فاتح فوج‘ کا نام دیا جاتا ہے، شمالی صوبہٴادلب میں دو شیعہ اکثریتی دیہات پر توب خانے سے حملہ کردیا ہے؛ وہ فویٰ اور کافریہ کے باہر گولہ بارود سے لدی گاڑیوں کو راکٹ فائر کرکے اڑا رہے ہیں۔

باغیوں کے زیرتسلط اس صوبے میں یہ دو دیہات ایسے ہیں جن پر حکومت نواز افواج کا قبضہ ہے۔

’سیرئن آبزرویٹری فور ہیومن رائٹس‘ کے ایک اہل کار نے فرانسسی خبر رساں ادارے کو بتایا ہے کہ اِن دھماکوں کا ہدف ’نیشنل ڈفنس فورسز‘ کے محاذ ہیں، جو ایک مقامی ملیشیا ہے، جو شام کی حکومت کی وفادار ہے۔

اِسی اہل کار کا کہنا ہے کہ حکومتی فضائی حملوں میں اِن دیہات کے گرد’فاتح فوج‘ کے ٹھکانوں کو ہدف بنایا گیا۔

XS
SM
MD
LG