رسائی کے لنکس

ایوارڈ پانے والی 31 سالہ خاتون صحافی کو حکومت اور شدت پسندوں، دونوں جانب سے نشانہ بنایا گیا۔

شامی صحافی خلود وليد اپنی جان کو لاحق خطرے اور روپوش ہونے کے باوجود طویل خانہ جنگی میں اپنے ہم وطنوں کی مشکلات پر صحافت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

31 سالہ خاتون صحافی کو حکومت اور شدت پسندوں، دونوں جانب سے نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے 2012 میں خواتین ساتھیوں کے ساتھ مل کر پوشیدہ رہ کر ایک اخبار شروع کیا جس میں وہ شام کے واقعات پر خبریں دیتی ہیں۔

بدھ کو انہیں شام کے لوگوں کو جنگ سے آگاہ رکھنے اور تشدد کے خلاف آواز اٹھانے پر اپنے کام کے لیے ’ریچ آل ویمن ان وار‘ تنظیم کی جانب سے سالانہ 'اینا پولٹکووسکایا ایوارڈ' دیا گیا۔

خلود ولید (جو ان کا اصل نام نہیں) نے روئیٹرز سے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’شامی میڈیا میں ہمیشہ یہی کہا گیا کہ کوئی جنگ نہیں، کوئی تنازع نہیں، کوئی مظاہرے نہیں، کوئی شیلنگ اور بمباری نہیں، کچھ نہیں۔ حکومت کی جانب سے پیغام یہ ہے کہ ’سورج چمک رہا ہے، پرندے چہچہا رہے ہیں، شام میں کچھ نہیں، کچھ بھی نہیں ہو رہا۔‘‘

تنظیم ان کے اخبار ’عناب بلادی‘ (ترجمہ: میرے ملک کے عناب) کو استعمال کر کے عالمی برادری کو بتانا چاہتی ہے کہ شام میں کیا ہو رہا ہے۔ اخبار ان جرائم کی خبریں دیتا ہے جو وہاں جاری ہیں۔

حکومت کی جانب سے اپنی کچھ ساتھیوں کو حراست میں لیے جانے اور تفتیش کیے جانے کے بعد ولید اب روپوش ہیں۔

’’ہم نے بہت سے دوست کھو دیے۔ تین کو قتل کر دیا گیا، تین حراست میں ہیں، اور دیگر کو رہا کر دیا گیا ہے۔‘‘

ولید نے کہا کہ ’’یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے لوگوں کو اور دنیا کو بتائیں کہ ایسے لوگ موجود ہیں جو آزادی چاہتے ہیں مگر انہیں ہر قسم کی برائی کا سامنا ہے۔‘‘

خطرات کے باوجود وہ تمام جانب سے کی جانے والی زیادتیوں اور جنگ میں گھرے عام لوگوں کی زندگیوں پر رپورٹنگ جاری رکھنے کا عزم رکھتی ہیں۔

یہ ایوارڈ روسی تحقیقیاتی رپورٹر اینا پولٹکووسکایا کی گیارہویں برسی پر دیا گیا جو ریاستی بدعنوانی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا پردہ چاک کرتی تھیں، خصوصاً چیچنیا میں۔

انہیں 48 سال کی عمر میں 7 اکتوبر 2006 کو ماسکو میں اپنے اپارٹمنٹ کی لابی میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

’ریچ آل ویمن ان وار‘ ایک غیر سرکاری تنظیم ہے جو انسانی حقوق کی خواتین کارکنوں اور دنیا بھر میں تشدد سے متاثر ہونے والی عورتوں کی مدد کرتی ہے۔

XS
SM
MD
LG