رسائی کے لنکس

شامی حزبِ اختلاف کا امن مذاکرات میں شرکت کا عندیہ


فائل

فائل

ترجمان کے بیان کے برعکس حزبِ اختلاف کے اتحاد کے سربراہ ریاض حجاب نے واضح کیا ہے کہ حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے تاحال مذاکرات میں شرکت کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔

شام کی حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے نمائندہ اتحاد نے اقوامِ متحدہ کی کوششوں سے رواں ہفتے ہونے والے امن مذاکرات میں شرکت کا عندیہ دیا ہے۔

حزبِ اختلاف کی 'اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی' کے ترجمان ریاض نسان آغا نے پیر کو صحافیوں کو بتایا ہے کہ مذاکرات میں شرکت کے لیے اتحاد کے نمائندے جمعے کو جنیوا پہنچنا شروع ہوں گے۔

ترجمان کے مطابق شام میں 27 فروری سے جاری جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں میں بتدریج کمی آرہی ہے جب کہ محاصرے کا شکار جنگ زدہ علاقوں میں امداد کی فراہمی کا عمل بھی تیز ہوا ہے۔

تاہم اتحاد کے سربراہ ریاض حجاب نے واضح کیا ہے کہ حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے تاحال مذاکرات میں شرکت کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔

پیر کو ٹیلی فون کے ذریعے جنیوا میں موجود صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شامی حزبِ اختلاف کی 90 سے زائد جماعتوں اور گروہوں کے نمائندہ اتحاد 'اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی' کے سربراہ نے دعویٰ کیا کہ جنگ بندی کے باوجود شام میں باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں پر روسی جنگی طیاروں کی بمباری جاری ہے۔

ریاض حجاب نے کہا کہ روس کی ان کارروائیوں کے نتیجے میں مذاکرات کے لیے سازگار ماحول نہیں بن پارہا اور شامی حزبِ اختلاف نے جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں سے متعلق اپنے تحفظات اقوامِ متحدہ کو بتا دیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حزبِ اختلاف کی اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی آئندہ چند روز میں شام میں موجود باغی کمانڈروں اور دیگر رہنماؤں سے رابطے کرکے مذاکرات میں شرکت کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرے گی۔

شام کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹیفان دی مستورا کی میزبانی میں شامی حزبِ اختلاف اور حکومت کے درمیان مذاکرات گزشتہ ماہ ہونا تھے لیکن شام میں جنگ بندی سے متعلق امریکہ اور روس کی کوششوں اور رابطوں کے پیشِ نظر انہیں ملتوی کردیا گیا تھا۔

اتوار کو امریکی اور روسی وزرائے خارجہ جان کیری اور سرگئی لاوروف نے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران شام میں جنگ بندی کی صورتِ حال کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے مذاکرات کا نیا دور بلا تاخیر شروع کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

اقوامِ متحدہ کی کوششوں سے ہونے والے امن مذاکرات کا مقصد فریقین کو شام میں گزشتہ پانچ برسوں سے جاری خانہ جنگی کے خاتمے اور نئے آئین کی تیاری اور نئے انتخابات کے انعقاد پر آمادہ کرنا ہے۔

XS
SM
MD
LG